Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہزاروں میل دور سے دماغ کو کنٹرول کرنے والی ڈیوائس تیار

اس امپلانٹ کانام ریپیڈو ہے جسے جنوبی کوریا کی کیسٹ اور یونسی یونیورسٹی  کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے

سائنس دانوں نے ایک ایسا حیرت انگیز چھوٹا دماغی امپلانٹ تیار کیا ہے جسے ہزاروں میل دور بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

 محققین نے امریکہ کے شہر شکاگو میں بیٹھ کر تقریباً 6,584 میل دور جنوبی کوریا کے شہر دائجون میں ایک لیبارٹری میں موجود چوہے کے دماغ میں لگے امپلانٹ کو آسانی سے کنٹرول کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔

اس امپلانٹ کانام ریپیڈو ہے جسے جنوبی کوریا کی کیسٹ اور یونسی یونیورسٹی  کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے۔

یہ چھوٹی سی ڈیوائس دماغ میں دو اہم کام انجام دے سکتی ہیں یہ بہت تھوڑی مقدار میں دوا دماغ کے مخصوص حصے تک پہنچا سکتی ہے جبکہ ایک چھوٹی ایل ای ڈی لائٹ کے ذریعے دماغ کے مخصوص خلیات کو روشنی بھی دے سکتی ہے۔

محققین ان دونوں کاموں کو دور بیٹھ کر کنٹرول کر سکتے ہیں اور پہلے سے طے کر سکتے ہیں کہ دوا یا روشنی کب دی جائے۔

پہلے تجربے میں امپلانٹ کے ذریعے چوہوں کے دماغ میں مختلف مقدار میں کوکین پہنچائی گئی۔ اس کے بعد چوہوں کی حرکت میں تبدیلی کو نوٹ کیا گیا، اسی طرح دوسرے تجربے میں روشنی کے ذریعے چوہوں کے دماغ کے مخصوص حصے کو فعال کیا گیا۔ اس سے ان کے سیکھے ہوئے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی۔

حیرت انگیز طور پر یہ عمل امپلانٹ لگانے کے دو، تین اور چار ہفتے بعد بھی دہرایا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ڈیوائس طویل عرصے تک بار بار کام کر سکتی ہے۔

کیا اس سے انسانوں میں نشے کا علاج ممکن ہو گیا ہے؟

ابھی نہیں یہ صرف چوہوں پر کیا جانے والا ابتدائی تجربہ ہے۔ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ ڈیوائس انسانوں میں کوکین یا کسی دوسرے نشے کا علاج کر سکتی ہے۔

انسانوں پر استعمال سے قبل اس ٹیکنالوجی کی حفاظت، طویل مدتی اثرات اور قابلِ اعتماد کارکردگی کی بہت زیادہ جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ایجاد کی اہمیت کیا ہے؟

اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں سائنس دان جانوروں کے دماغ پر ہونے والے تجربات کو دور بیٹھ کر کر سکیں گے۔ اس طرح جانور کے قریب جانے یا اسے بار بار پکڑنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے تجربے کے نتائج پر انسانی موجودگی کا اثر بھی کم ہوگا۔