کراچی: ڈیفنس کے علاقے میں تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان علی جعفری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دوستوں نے بلا مار کر اغوا کیا، پھر تشدد اور زبردستی معافی منگوائی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان علی جعفری 29 اگست کو اپنے دوست علی فیصل کی دعوت پر گیمنگ کے لیے ڈیفنس گیا تھا۔
علی جعفری نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ ڈیفنس فیز 6 کے بخاری کمرشل میں کھانا کھانے گیا، جہاں کھانا کھانے کے بعد ہوٹل سے باہر نکلتے ہی اچانک اس کے سر پر بیس بال کا بلا مارا گیا۔
متاثرہ نوجوان کے مطابق بلا لگنے سے وہ بے ہوش ہوگیا، جس کے بعد اسے گاڑی میں ڈال کر ڈیفنس فیز 8 لے جایا گیا۔
علی جعفری نے بتایا کہ وہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر مسلسل زبردستی معافی مانگنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
متاثرہ نوجوان کا کہنا تھا کہ تشدد کے دوران اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی جو بعد میں سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئی۔
یاد رہے کہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی، ڈی آئی جی ساؤتھ نے واقعے کی انکوائری کا آغاز کیا اور متاثرہ نوجوان سمیت ملزمان کی تلاش شروع کی۔
کچھ ہی دیر بعد متاثرہ نوجوان ساحل تھانے پہنچ گیا جب کہ پولیس نے تشدد کرنے والے مرکزی ملزم ابراہیم ملک کے والد کو ابتدائی طورپر حراست میں لیا جس کے بعد ملزم کو ساتھی سمیت گرفتارکرلیا گیا۔
ملزم کے خلاف متاثرہ نوجوان کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 274/2026، اغوا، دھمکی اور تشدد کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا جب کہ پولیس کے مطابق واقعہ کی وجہ ذاتی چپقلش معلوم ہوتی ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔















