Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹ پڑا، راکھ کا بادل 15 کلومیٹر بلند ہوگیا

22 دسمبر 2018 کے آتش فشانی واقعے کے بعد ماؤنٹ اناک کراکاٹو کی افزائش نسبتاً محدود رہی ہے، انڈونیشین جیولوجیکل ایجنسی

انڈونیشیا: ماؤنٹ اناک کراکاٹو میں شدید آتش فشانی سرگرمی ریکارڈ کی گئی جس کے دوران راکھ کا ایک بڑا بادل تقریباً 49 ہزار فٹ یعنی 15 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ گیا جب کہ واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔

ایکس پر شیئر کی گئی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق آتش فشاں پھٹنے کا یہ منظر مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بج کر 20 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔

 

پوسٹ میں وی اے اے سی ڈارون کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2026 کو آتش فشانی سرگرمی کے نتیجے میں راکھ کا ستون تقریباً 49 ہزار فٹ یا 15 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ گیا۔

اس سے قبل آتش فشاں کے قریب ایک کشتی سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں آتش فشانی سرگرمی کو دیکھا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق حکام اور نگرانی کرنے والے ادارے آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ اور جاری سرگرمی کے باعث صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جیولوجیکل ایجنسی کے مطابق آتش فشانی سرگرمی لاوا فاؤنٹین جیسی تھی جس میں لاوا خارج ہوکر بہتا ہے جب کہ کئی گھنٹوں تک مسلسل آتش فشانی سرگرمی کا جاری رہنا غیر معمولی نہیں۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ مغربی جاوا، بنتن اور لیمپونگ کے بعض علاقوں میں دھماکوں جیسی آوازیں اور ارتعاش محسوس کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کا تعلق ماؤنٹ اناک کراکاٹو کی سرگرمی سے ہونے کا شبہ ہے۔

انڈونیشیا کی جیولوجیکل ایجنسی کے مطابق 22 دسمبر 2018 کے آتش فشانی واقعے کے بعد ماؤنٹ اناک کراکاٹو کی افزائش نسبتاً محدود رہی ہے اور کسی بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے کے نتیجے میں سونامی پیدا ہونے کا امکان نہیں۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا بحرالکاہل کے رِنگ آف فائر پر واقع ہے جو فالٹ لائنز اور آتش فشاؤں پر مشتمل ایک زلزلہ خیز خطہ ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں اکثر ریکارڈ کی جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں