دور جدید میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیزی سے روز مرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے یا یوں کہیں تو بے جانہ نہ ہوگا کہ اب اس کے بغیر انسانی زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تمام ٹیکنالوجیز یکساں صلاحیتوں کی حامل نہیں۔ مختلف ماہرین اے آئی کو اس کی صلاحیتوں اور ارتقائی مراحل کی بنیاد پر مختلف اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی چار بنیادی اقسام میں ردعمل ظاہر کرنے والی مشینیں، محدود یادداشت رکھنے والی اے آئی، ذہن کو سمجھنے والی اے آئی اور خود آگاہ مصنوعی ذہانت شامل ہیں۔
پہلی قسم: ردعمل ظاہر کرنے والی مشینیں
ردعمل ظاہر کرنے والی مشینیں مصنوعی ذہانت کی بنیادی ترین شکل سمجھی جاتی ہیں۔ یہ نظام سامنے آنے والے ڈیٹا یا کسی مخصوص صورتحال کے مطابق ردعمل دیتے ہیں، تاہم ماضی کے تجربات سے مستقل یادداشت تشکیل نہیں دیتے۔
فلموں، ڈراموں یا دیگر پروگراموں کی سفارش کرنے والے بعض سسٹمز اس قسم کی اے آئی کی مثال ہیں، جو دستیاب معلومات کی بنیاد پر صارف کو تجاویز فراہم کرتے ہیں۔
دوسری قسم: محدود یادداشت رکھنے والی اے آئی
محدود یادداشت رکھنے والی مصنوعی ذہانت ماضی کے کچھ ڈیٹا، مشاہدات یا حالیہ معلومات کو استعمال کرکے فیصلوں اور ردعمل کو بہتر بنا سکتی ہے۔
خودکار گاڑیوں میں استعمال ہونے والی اے آئی اس کی ایک مثال ہے، جو سڑک، ٹریفک، دیگر گاڑیوں اور اردگرد کے ماحول سے متعلق معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے ردعمل ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت ہمارے سوچنے کی صلاحیت کو کم کررہی ہے؟
تیسری قسم: ذہن کو سمجھنے والی اے آئی
ذہن کو سمجھنے والی مصنوعی ذہانت ابھی تحقیق اور ترقی کے مراحل میں ہے۔ اس تصور کے تحت ایسی مشینیں تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی جو انسانوں کے جذبات، ارادوں، خیالات اور سماجی رویوں کو سمجھ سکیں۔
اگر یہ ٹیکنالوجی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو مشینیں انسان کی صورتحال اور جذبات کے مطابق اپنا رویہ اور ردعمل تبدیل کرنے کے قابل ہوسکتی ہیں۔
چوتھی قسم: خود آگاہ مصنوعی ذہانت
خود آگاہ مصنوعی ذہانت کو اے آئی کی سب سے پیچیدہ قسم قرار دیا جارہا ہے، تاہم یہ فی الحال نظریاتی تصور ہے۔
اس مرحلے میں ایسی مشین کا تصور پیش کیا جاتا ہے جو اپنی شناخت، وجود اور ممکنہ طور پر اپنی ذہنی کیفیت سے آگاہ ہو۔ موجودہ چیٹ بوٹس اور دیگر مصنوعی ذہانت کے نظام کو خود آگاہ نہیں سمجھا جاتا۔
مستقبل میں کیا تبدیلیاں آسکتی ہیں؟
مصنوعی ذہانت کی پہلی دو اقسام آج مختلف شکلوں میں استعمال ہورہی ہیں، جبکہ انسان کے ذہن کو سمجھنے والی اور خود آگاہ اے آئی ابھی مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متعلق تصورات ہیں۔
اگر زیادہ جدید اقسام کی مصنوعی ذہانت عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو انسان اور مشین کے تعلق میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس کے اثرات روزگار، تعلیم، صحت، مواصلات اور روزمرہ زندگی سمیت معاشرے کے مختلف شعبوں پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔




















