Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

’کوئی رہ تو نہیں گیا؟‘ شوبز ستارے بھی 80 کی دہائی کے رنگ میں رنگ گئے

80 کی دہائی کا اے آئی ٹرینڈ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے

سوشل میڈیا پر ان دنوں 80 کی دہائی کے انداز میں تصاویر بنانے کا اے آئی ٹرینڈ تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں عام صارفین کے ساتھ پاکستانی شوبز شخصیات بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

اس ٹرینڈ میں صارفین چیٹ جی پی ٹی سمیت مختلف اے آئی ٹولز کی مدد سے اپنی تصاویر کو 1980 کی دہائی کے فیشن اور انداز میں تبدیل کررہے ہیں۔ ٹرینڈ کی مقبولیت اس قدر بڑھی کہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ انداز میں یہ سوال بھی گردش کرنے لگا کہ ’کوئی رہ تو نہیں گیا؟‘

شوبز انڈسٹری میں اس ٹرینڈ کا آغاز ماہرہ خان کے ایک میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے کیا گیا جس نے ماورا حسین، ماہرہ خان، عائزہ خان، انمول بلوچ، صنم سعید، عینا آصف اور زارا نور عباس کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شیئر کیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Mashion (@mashionpk)

پوسٹ کے مطابق پاکستانی اداکاراؤں کو ایک مختلف دور کی ہیروئنز کے انداز میں پیش کیا گیا تاہم بعض صارفین نے اے آئی کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا متعلقہ اداکاراؤں نے اپنی تصاویر کو اس مقصد کے لیے استعمال کی اجازت دی تھی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Yasir Hussain (@yasir.hussain131)

دوسری جانب اداکارہ صبور علی اور اداکار یاسر حسین سمیت متعدد شوبز شخصیات اور انٹرٹینمنٹ پیجز نے بھی اے آئی سے تیار کردہ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔

یاسر حسین کی تصاویر میں ان کی اہلیہ اقرا عزیز کے ساتھ ایک تصویر بھی شامل تھی جبکہ صبور علی نے علی انصاری کے ہمراہ اے آئی سے تیار کردہ تصویر اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Armeena Khan (@armeenakhanofficial)

شاہروز سبزواری، مریم نفیس، انوشے اشرف، زلے سرحدی، نور حسن، نمرہ خان اور ارمینہ خان سمیت دیگر شوبز شخصیات بھی اس ٹرینڈ کا حصہ بنیں۔

اگرچہ 80 کی دہائی کے انداز میں تصاویر بنانے والے اس اے آئی ٹرینڈ نے سوشل میڈیا صارفین کو تفریح کا نیا موقع فراہم کیا تاہم اس کے ساتھ تصاویر کے غلط استعمال، رضامندی، پرائیویسی، ڈیپ فیک اور ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

صارفین نے اے آئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال اور تصاویر کے ذریعے شناخت چوری کے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں