جاپان میں پہلی بار 100 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی جہاں اب 107,677 افراد سنچری مکمل کرچکے ہیں۔
جاپانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 100 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد میں 7,914 کا اضافہ ہوا ہے۔ وزیر صحت کینچیرو یونو نے کہا کہ طبی ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث زیادہ لوگ طویل عمر پا رہے ہیں اور فعال زندگی گزار رہے ہیں۔
جاپان میں 100 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد مسلسل 56 سال سے ہر سال بڑھ رہی ہے۔ 1963 میں جب جاپان نے اس حوالے سے باقاعدہ اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے تو ملک میں صرف 153 سنچریئنز موجود تھے، جبکہ 25 سال بعد یہ تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی تھی۔
تازہ سروے کے مطابق جاپان کے 100 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں تقریباً 88 فیصد خواتین ہیں۔ جاپان دنیا میں بلند ترین اوسط متوقع عمر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں خواتین کی اوسط عمر تقریباً 87 سال جبکہ مردوں کی تقریباً 81 سال ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں جاپانی شہری غیر معمولی طویل عمر پا رہے ہیں، وہیں ملک کی مجموعی آبادی تیزی سے کم بھی ہورہی ہے۔ کم شرح پیدائش اور نسبتاً کم شرح ہجرت کے باعث جاپان آبادی میں کمی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔
سال کے آغاز میں جاپانی شہریوں کی تعداد 42 سال میں پہلی مرتبہ 12 کروڑ سے کم ہوکر تقریباً 11 کروڑ 97 لاکھ رہ گئی۔ صرف ایک سال کے دوران جاپان کی آبادی میں 9 لاکھ 17 ہزار افراد کی کمی ہوئی، جو تقریباً ایک بڑے شہر کی آبادی کے برابر ہے۔
آبادی میں کمی اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث جاپان میں سماجی تحفظ کے اخراجات بھی ہر سال بڑھ رہے ہیں، جس سے سرکاری خزانے پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں مزید اہم ہوگئی ہے جب جاپان پہلے ہی صنعتی ممالک میں قومی قرضوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ مقروض ملک ہے۔
یعنی ایک طرف جاپان میں لوگ ریکارڈ تعداد میں 100 سال کی عمر عبور کررہے ہیں، تو دوسری طرف نئی نسل کی تعداد کم ہونے سے ملک کی آبادی سکڑتی جارہی ہے، جو دنیا کے لیے بڑھتی عمر اور گرتی شرح پیدائش کے منفرد چیلنج کی ایک بڑی مثال بن چکا ہے۔




















