خلیجی تنازع کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور توانائی کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں نئی کفایتی اور ایندھن بچت پالیسی نافذ کردی، جس کے تحت دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات ایندھن کے تحفظ اور اضافی کفایتی اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر کیے گئے ہیں۔
نئے احکامات فی الحال صرف اسلام آباد تک محدود ہیں تاہم وفاقی حکومت نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کرنے کی ترغیب دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت اسلام آباد میں تمام دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، بازار، ڈپارٹمنٹل اسٹورز، گروسری، جنرل اور کریانہ اسٹورز رات 9 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔
شادی ہالز، مارکیز اور تقریبات کے لیے استعمال ہونے والے تمام کمرشل مقامات کو رات 10 بجے تک بند کرنا ہوگا، جبکہ شادی سے متعلق تقریبات اور دیگر فنکشنز میں صرف ون ڈش کی اجازت ہوگی۔
ریسٹورنٹس، کیفے، کھانے پینے کے مراکز اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے تک بند کرنا ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو مقررہ بندش کے اوقات سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
حکومت نے بعض ضروری اور مخصوص شعبوں کو اوقات کار کی پابندی سے مکمل استثنیٰ بھی دے دیا ہے۔ ان میں فارمیسیز، اسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، الگ سے قائم بیکریاں، تندور، دودھ اور ڈیری کی دکانیں، پیٹرول و سی این جی پمپس، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد توانائی کے استعمال میں کمی اور ایندھن کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ان کا اطلاق ابتدائی طور پر وفاقی دارالحکومت میں کیا گیا ہے۔
















