Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فن لینڈ کے شہریوں نے ڈیٹا سینٹرز پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کر دیا

ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور آن لائن خدمات کے لیے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں

فن لینڈ میں ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے بجلی، پانی اور دیگر وسائل کے استعمال پر شہریوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سخت ضوابط کے مطالبے کی مہم شروع کردی ہے، جسے جمعہ کے روز مطلوبہ 50 ہزار دستخط حاصل ہوگئے۔

فن لینڈ کے نشریاتی ادارے  کے مطابق شہریوں کی جانب سے شروع کیا گیا یہ اقدام اب پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیے جانے کی راہ پر گامزن ہے۔ فن لینڈ کے قانون کے تحت کسی شہری اقدام کو 50 ہزار دستخط ملنے کے بعد پارلیمنٹ میں اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔

یہ مہم منگل کو شروع کی گئی تھی، جس کے چند روز بعد ہی مطلوبہ دستخط مکمل ہوگئے۔ اس پیش رفت کا پس منظر گوگل کا گزشتہ ہفتے سامنے آنے والا اعلان ہے، جس میں کمپنی نے فن لینڈ میں اپنے ڈیٹا سینٹر آپریشنز کو آئندہ برسوں کے دوران مزید وسعت دینے کا منصوبہ ظاہر کیا تھا۔

شہری اقدام میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک کے بجلی کے نظام سے ڈیٹا سینٹرز کے کنکشن اور ان کے آپریشن کے لیے مزید سخت شرائط عائد کی جائیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی اجازت دیتے وقت بجلی کے گرڈ کی مجموعی گنجائش، لازمی بیک اَپ پاور اور ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کے مؤثر استعمال کو مدنظر رکھا جائے۔

مہم چلانے والوں نے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک الگ فیس عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس کا تعین ان کے ماحولیاتی اثرات اور استعمال ہونے والے وسائل کی بنیاد پر کیا جائے۔ ان وسائل میں بجلی، پانی اور زمین کا استعمال شامل ہے۔

شہری اقدام میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجوزہ اقدامات سے ملک کے توانائی کے وسائل پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور گھریلو صارفین سمیت دیگر صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتیں قابل برداشت رکھنے میں بھی معاونت ملے گی۔

ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور آن لائن خدمات کے لیے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں، تاہم ان مراکز کو بڑی مقدار میں بجلی اور بعض صورتوں میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے توسیع کے ساتھ توانائی اور ماحولیاتی اثرات پر بحث بھی بڑھ رہی ہے۔

فن لینڈ میں شہریوں کی اس مہم کے پارلیمنٹ تک پہنچنے کے بعد قانون سازوں کو یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ملک میں ڈیٹا سینٹرز کی سرمایہ کاری اور توسیع کو کس طرح توانائی کے نظام، ماحولیاتی تحفظ اور عام صارفین کے مفادات کے ساتھ متوازن رکھا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں