نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق فیصلہ کرنا ہے کہ اسے تباہ کیا جائے یا معاہدہ کیا جائے، ایران معاہدہ کرلیتا ہے تو وہ بہترین ملک ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب اعزاز ہے اور دنیا بھر کے رہنماؤں کو اجلاس میں شرکت کے لیے خوش آمدید کہتا ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، امریکا کا مستقبل روشن ہے اور امریکا دوبارہ ایسا مضبوط ہوگیا ہے جیسے پہلے کبھی نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی فوج دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے جب کہ امریکی معیشت بہترین ہے، امریکا دنیا کے ہر شعبے میں سب سے آگے ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ان کی صدارت کے دوران ایک ملین امریکیوں کے لیے نوکریاں پیدا ہوئیں جب کہ امریکا میں غربت کی شرح تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوکر واپس آیا ہے، امریکا کے بارڈرز دنیا کے محفوظ ترین بارڈرز میں شامل ہیں اور امریکا میں کوئی بھی غیر قانونی طریقے سے داخل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں اسٹاک مارکیٹس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں، بطور امریکی صدر ان کی ذمہ داری ہے کہ دنیا میں کسی بھی خطرے کو بڑھنے نہ دیں۔
امریکی صدر کہتے ہیں کہ دوسرے لوگ صرف امن کے لیے بات کرتے ہیں، وہ امن لائے ہیں جب کہ امریکا نے امریکی فوج پر بہت بڑی رقم خرچ کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا کے لیے خطرہ بننے والے تنازعات کو حل کر رہے ہیں، دہشت گردی کے نمبر ون فنانسر ایران کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایران مشرق وسطیٰ میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں کرسکتا، وہ دنیا میں مسائل کو مزید بگڑنے نہیں دیں گے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایرانی رجیم نے خطے میں قتل و غارت اور دہشت گردی پھیلائی جب کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے تہران سے معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ایرانی حکام نے انکار کردیا، ایران نے ابتدائی مذاکرات کو قبول نہیں کیا جس کے بعد آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کیا گیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے متعلق فیصلہ کرنا ہے کہ اسے تباہ کردیں یا ڈیل کرلیں۔ ایران ڈیل کرلیتا ہے تو وہ بہترین ملک ہے جب کہ انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران کے ساتھ ڈیل ہوجائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی فوج نے ایرانی ایٹمی پروگرام کو پہاڑوں کے نیچے دفن کردیا جب کہ ایران میں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ گئی ہے، آپریشن ایپک فیوری میں 159 ایرانی بحری جہازوں کو ڈبو دیا اور اپنے دور میں میں نے 8 جنگیں رکوائیں۔
امریکی صدر مزید کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو رکوایا، دیگر ممالک کے سربراہان نے خط لکھ کر شکریہ ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی اجلاس میں پھر وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر کرتے ہوئے انہیں عظیم لیڈر قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف عظیم لیڈر ہیں، شہباز شریف نے کہا میں نے جنگ رکوا کر 3 کروڑ لوگوں کی جانیں بچائیں۔
دوسری جانب کیوبا کے وفد نے امریکی صدر کے خطاب کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا۔
امریکی صدر نے خطاب کے دوران کیوبا سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا ایک ناکام ریاست ہے اور منہدم ہوجائے گی جب کہ مارکو روبیو کیوبا کے رہنماؤں سے مذاکرات کررہے ہیں اور دیکھتے ہیں مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔




















