Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مکہ دفاعی معاہدے پر تنقید، حاقان فیدان کا دوٹوک جواب

حاقان فیدان نے کہا کہ ہم نے تو ابھی آغاز کیا ہے۔ ان کے اس جواب پر پینل میں موجود شرکا نے تالیاں بجائیں

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے دفاعی اتحاد کو یمن کے ایک دہائی سے جاری بحران کی بنیاد پر جانچنا مناسب نہیں کیونکہ اتحاد نے ابھی کام کا آغاز کیا ہے۔

نیویارک میں ترکیہ اور امریکا کے تعلقات سے متعلق ایک پینل میں حاقان فیدان سے سوال کیا گیا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کیا یمن کا بحران مکہ دفاعی معاہدے کے لیے پہلا امتحان نہیں؟

ترک وزیر خارجہ نے نیٹو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 50 سال پرانے اتحاد کے آرٹیکل 5 کو بھی اب تک صرف ایک مرتبہ فعال کیا گیا ہے، اس لیے نئے قائم ہونے والے دفاعی اتحاد کو طویل عرصے سے جاری یمن بحران کی بنیاد پر پرکھنا مناسب نہیں۔

حاقان فیدان نے کہا کہ ہم نے تو ابھی آغاز کیا ہے۔ ان کے اس جواب پر پینل میں موجود شرکا نے تالیاں بجائیں۔

انہوں نے بتایا کہ مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد رکن ممالک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جبکہ دیگر ممالک کے لیے بھی اتحاد میں شمولیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔

فیدان کے مطابق اتحاد کو مؤثر بنانے کے لیے آئندہ مرحلے میں ادارہ جاتی ڈھانچے، مرکزی ہیڈکوارٹر اور متعلقہ عملے سمیت ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔ اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کرنے اور پہلے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری پاکستان کو دینے پر بھی اتفاق کیا جاچکا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں سیکیورٹی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

حالیہ علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کو یمن میں حوثیوں کے حملوں کے باعث بعض فوجی ضروریات پیش آسکتی ہیں اور ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت ان ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

متعلقہ خبریں