امریکی ریاست ٹینیسی میں تقریباً 30 سال قبل قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک کو زہریلا انجیکشن دیے جانے کے باوجود موت واقع نہ ہوسکی جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے جیل سے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جب کہ جرم کے وقت کرسٹا پائیک کی عمر 18 سال تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹینیسی میں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے کرسٹا پائیک کو زہریلا انجیکشن دیا گیا تاہم اس کے باوجود وہ زندہ رہیں اور بعد ازاں انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ٹینیسی محکمہ اصلاحات کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ریاست میں مقرر قانونی اور منظور شدہ تمام مراحل مکمل کیے گئے تھے جب کہ انجیکشن میں استعمال ہونے والی دوا پہلے بھی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے استعمال ہوچکی ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ مقررہ طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد اس عمل کے تحت مزید کارروائی کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔
دوسری جانب کرسٹا پائیک کے وکلا نے سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے لیے وفاقی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وکلا کی درخواست میں عینی شاہدین کے بیانات شامل کیے گئے جن کے مطابق زہریلی دوا کی سرنجیں استعمال کیے جانے کے بعد بھی کرسٹا پائیک زندہ تھیں۔
رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ انجیکشن دیے جانے کے باوجود خاتون سانس لے رہی تھیں اور خراٹے لینے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔
کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل ٹینیسی کے گورنر کی جانب سے پہلے ہی مسترد کی جاچکی تھی تاہم سزائے موت پر عمل درآمد کی ناکام کوشش کے بعد گورنر نے ریاست میں رواں سال سنائی گئی سزائے موت کے دیگر مقدمات پر عمل درآمد روکنے کا اعلان کیا ہے۔
گورنر کی جانب سے اس واقعے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کرانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سزائے موت پر عمل درآمد مقررہ طریقے کے مطابق کیوں مکمل نہ ہوسکا۔
واضح رہے کہ ٹینیسی میں رواں سال سزائے موت پر عمل درآمد کی یہ دوسری ناکام کوشش ہے۔ اس سے قبل مئی میں ایک مرد قیدی کو زہریلا انجیکشن دینے کا عمل اس وقت روک دیا گیا تھا جب جیل حکام انجیکشن لگانے کے لیے اس کی رگ تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔




















