حکومت نے آئی ایم ایف کو نئی آٹو پالیسی کا مسودہ بھجوا دیا جس پر آئی ایم ایف کے ساتھ ورچوئل بات چیت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام کو نئی آٹو پالیسی پر وزارت صنعت کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔
خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
آٹو پالیسی کی دستاویز کے مطابق نئی پالیسی میں 2026 سے 2031 تک آٹو سیکٹر میں مقامی پیداوار، برآمدات، مسابقت اور صارفین کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
اس کے تحت گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی جبکہ 2030-31 تک ٹیرف کو 15 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مختلف ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق 2026 سے 2031 تک بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھنے کی تجویز منظور کی گئی ہے جب کہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹیز میں کمی اور 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کم ٹیرف کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 75 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

















