Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکی انتخابات، ڈیموکریٹس کی دھواں دار پیش قدمی، سینیٹ اور کانگریس میں متعدد نشستیں جیت لیں

امریکی انتخابات کے ابتدائی نتائج سب سے پہلے بول نیوز پر سامنے آگئے

امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ریپبلکنز کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کرلی ہے، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی متعدد اہم نشستیں ڈیموکریٹس کے نام ہوگئیں، جبکہ کئی ریاستوں میں گورنرز نے بھی اپنی حکمرانی برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

امریکی میڈیا کے مطابق مختلف ریاستوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ابتدائی انتخابی اعداد و شمار کے مطابق سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے ڈیموکریٹس اب تک 45 اور ریپبلکنز 34 نشستیں حاصل کرچکے ہیں۔

اسی طرح 435 ارکان پر مشتمل ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے 73 جبکہ ریپبلکن امیدواروں نے 34 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ نتائج کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث دونوں جماعتوں کی حتمی پوزیشن ابھی واضح نہیں ہوئی۔

سینیٹ کے اہم مقابلوں میں ورجینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر چوتھی مرتبہ کامیابی حاصل کرلی۔ جارجیا میں ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف نے اپنے حریف مائیک کولنز کو ہرا کر ایک بار پھر سینیٹ کی نشست اپنے نام کرلی۔

ڈیلاویئر میں ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے ریپبلکن امیدوار مائیکل کاٹز کو شکست دی، جبکہ الینوائے سے ڈیموکریٹک امیدوار جولیانا اسٹریٹن سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب رہیں۔ نیوجرسی میں کوری بُکر، روڈ آئی لینڈ میں جیک ریڈ اور میساچوسٹس میں ایڈورڈ مارکی نے بھی اپنی سینیٹ کی نشستوں کا کامیابی سے دفاع کیا۔

ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے کئی اہم حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیبی واسرمین شلٹز نے ریپبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔

اسی ریاست کے 10ویں حلقے سے الیگزینڈرو فراسٹ دوبارہ منتخب ہوئے، جبکہ 23ویں حلقے سے لوئس فرینکل نے ریپبلکن امیدوار ڈیبورا ایڈیمی کو شکست دے دی۔

جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے جیسمین کلارک، پانچویں سے نیکیما ولیمز اور چھٹے حلقے سے لوسی میک باتھ دوبارہ ایوانِ نمائندگان میں پہنچ گئیں۔ لوسی میک باتھ نے ریپبلکن حریف کیون ای مارٹن کو شکست دی، جبکہ نیکیما ولیمز نے جان سالویسن کو ہرایا۔

کینٹکی کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک رہنما مورگن میک گاروی نے دوبارہ کامیابی حاصل کی، تاہم اسی ریاست کے پانچویں حلقے سے ریپبلکن رہنما ہال راجرز بھی اپنی نشست بچانے میں کامیاب رہے۔ فلوریڈا کے 19ویں حلقے سے ریپبلکن امیدوار جم شوارٹزل نے بھی کامیابی حاصل کرلی۔

گورنرز کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو اہم کامیابیاں ملی ہیں۔ الینوائے سے جے بی پرٹزکر، میساچوسٹس سے مورا ہیلی، میری لینڈ سے ویس مور اور پنسلوانیا سے جوش شاپیرو دوبارہ گورنر منتخب ہوگئے۔ ان کامیابیوں کے ساتھ ڈیموکریٹس نے ان ریاستوں میں اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

دوسری جانب الاباما، ڈیلاویئر، فلوریڈا، الینوائے، میساچوسٹس، مین، مسی سپی، نیوہیمپشائر، نیومیکسیکو، ٹیکساس، ساؤتھ ڈکوٹا اور وائیومنگ سمیت متعدد ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی ہے۔

امریکا کی 36 ریاستوں میں گورنرز کے انتخاب کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ انتخابی نتائج کا یہ مرحلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ان کے ذریعے نہ صرف کانگریس کے دونوں ایوانوں میں سیاسی قوت کا توازن طے ہوگا بلکہ مختلف ریاستوں میں آئندہ حکومتی پالیسیوں کی سمت بھی متعین ہوگی۔

تاہم ابتدائی اعداد و شمار کو حتمی انتخابی نتائج قرار نہیں دیا جاسکتا اور گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی سیاسی منظرنامے کی واضح تصویر سامنے آئے گی۔

متعلقہ خبریں