آسٹریلیا کے شمال مغربی ساحل کے قریب ایک چھوٹا خلائی پتھر زمین کی فضا میں داخل ہوگیا جس کا قطر تقریباً ایک میٹر بتایا گیا ہے۔
نئے خلائی پتھر کو ابتدائی طور پر ’’سی ای آر این کیو 52‘‘ کا نام دیا گیا ہے جسے امریکا کی ایریزونا ریاست میں قائم لیمون رصد گاہ نے دریافت کیا۔
ماہرین کے مطابق خلائی پتھر کا قطر تقریباً 80 سینٹی میٹر سے ایک میٹر کے درمیان تھا اور اس کے زمین کی فضا میں داخل ہونے کا مقام آسٹریلیا کے شمال مغربی حصے کے قریب سمندر میں تھا۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ ایک بے ضرر خلائی پتھر تھا اور اس سے زمین یا آسٹریلیا کے شہریوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں تھا۔
اندازے کے مطابق خلائی پتھر زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہی شدید رگڑ کے باعث جل گیا جس سے آسمان پر روشن شہابی منظر پیدا ہوسکتا تھا۔
اس واقعے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ خلائی جسم کو زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی دریافت کرلیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایسا تیرہواں موقع ہے جب کسی خلائی پتھر کو زمین کی فضا میں داخل ہونے سے پہلے شناخت کیا گیا۔
🛑 ASTEROID ATMOSPHERIC ENTRY ALERT 🛑
A freshly discovered (08h45min UT, Sept. 6) small (~0,8 m diameter) asteroid (CERNQ52) is in a trajectory that will direct it into the Earth atmosphere, over Indian ocean today (Sept. 6) around 16h 35min UT.
Stay tuned for more updates!— International Meteor Organization (@imometeors.bsky.social) September 6, 2026 at 3:45 PM
ماہرین کے مطابق اس خلائی پتھر کی جسامت بہت کم تھی، اس لیے فضا میں داخل ہوتے وقت اس کے مکمل طور پر جل جانے کا امکان تھا۔
ماہرین نے بتایا کہ اس پتھر کی جسامت اور راستے کو دیکھتے ہوئے اس واقعے سے کسی بڑے نقصان کا خدشہ نہیں تھا تاہم آسٹریلیا کے شمال مغربی علاقے میں موجود افراد کو آسمان پر اچانک روشن چمک دکھائی دے سکتی تھی۔
خلائی ماہرین نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر کسی نے اس واقعے کے دوران روشن شہابی منظر دیکھا ہو تو اس کی اطلاع متعلقہ عالمی ادارے کو دی جائے جب کہ اس کی تصویر یا ویڈیو بھی ماہرین کے ساتھ شیئر کی جاسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق زمین کے قریب آنے والے ایسے چھوٹے خلائی پتھر کی بروقت دریافت سے ان کی سمت اور ممکنہ اثرات کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔
