قدیم مصر کے بادشاہوں کے مقبروں کے قریب دفن افراد کے بارے میں نئی تحقیق نے صدیوں پرانے ایک دعوے کو تقویت دی ہے جس کے مطابق بعض افراد کو ممکنہ طور پر بادشاہ کی موت کے بعد جان بوجھ کر قتل کیا گیا تھا۔
امریکا کی پرڈیو یونیورسٹی سے وابستہ ماہر آثار قدیمہ روزلین کیمبل نے برطانوی ماہر آثار قدیمہ فلنڈرز پیٹری کی جانب سے محفوظ کیے گئے قدیم انسانی ڈھانچوں کا جدید طبی طریقوں سے دوبارہ جائزہ لیا ہے۔
فلنڈرز پیٹری نے 1920 کی دہائی میں قدیم مصر کے پہلے خاندان کے بادشاہوں کے مقبروں کے اطراف کھدائی کے دوران سیکڑوں افراد کی قبریں دریافت کی تھیں۔ اس وقت انہوں نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ان افراد کو بادشاہ کی موت کے بعد اس کی خدمت کے لیے قربان کیا گیا ہوگا۔
تاہم اس وقت ان افراد کی موت کی وجہ کے واضح شواہد موجود نہیں تھے جس کے باعث یہ نظریہ متنازع رہا۔
نئی تحقیق میں پیٹری کے محفوظ کیے گئے 46 کھوپڑیوں میں سے 18 پر ایسے زخموں کے نشانات ملے ہیں جو جان لیوا ثابت ہوسکتے تھے۔ زیادہ تر کھوپڑیوں پر ایسی دراڑیں موجود ہیں جو کسی چوڑی اور سخت چیز سے شدید ضرب لگنے کے نتیجے میں پیدا ہوسکتی ہیں۔
کچھ کھوپڑیوں پر نوکیلی یا کاٹنے والی چیز سے لگنے والے زخم بھی پائے گئے ہیں۔ محقق کے مطابق یہ شواہد اس امکان کو مضبوط کرتے ہیں کہ متعدد افراد کی موت قدرتی طور پر نہیں ہوئی بلکہ انہیں جان بوجھ کر قتل کیا گیا۔
یہ قبریں قدیم شہر ابیدوس کے علاقے ام القاب میں شاہی مقبروں کے قریب موجود تھیں۔ یہ بادشاہ تقریباً 3078 سے 2900 قبل مسیح کے درمیان حکومت کرتے تھے۔
تحقیق کے مطابق بعض قبروں پر دفن افراد کے نام اور سرکاری عہدے بھی درج تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں نچلے اور درمیانے درجے کے سرکاری اہلکار اور کاریگر شامل تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں قبروں کو بند کیے جانے اور شاہی خاندان سے وابستہ افراد کی موجودگی سے یہ امکان بڑھتا ہے کہ انہیں بادشاہ کی موت کے بعد اس کے ساتھ دوسری دنیا میں خدمت کے لیے قربان کیا گیا ہو۔
محقق روزلین کیمبل کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ کچھ افراد نے خود کو قربان کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہو جب کہ بعض کو منتخب یا مجبور کیا گیا ہو۔ جدید طریقوں سے پرانے آثار کا دوبارہ جائزہ ماضی کے بارے میں نئی معلومات سامنے لاسکتا ہے۔




















