Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دیڑھ سو سال پرانا بیمار درخت ٹری آف دی ایئر میں فاتح قرار

یہ درخت 19ویں صدی کے وسط میں نیوکاسل کے ساحلی راستے پر وِچ ایلم درختوں کی ایک قطار میں لگایا گیا تھا

وِچ ایلم نامی یہ درخت جسے بینڈی ٹری بھی کہاجاتا ہے نیوکاسل، کاؤنٹی ڈاؤن میں واقع ہے اس درخت کی سب سے خاص بات یہ ہے یہ دیگر درخت کی طرح سیدھا نہیں ہے بلکہ بحیرۂ آئرش کے قریب ہونے کی وجہ سے سمندری تیز ہواؤں کے باعث ایک جانب جھک گیا اور افقی سمت میں بڑھتا چلا گیااور یہی تیڑھا پن اسے فاتح بنا گیا۔

یہ 150 سال پرانا درخت ڈچ ایلم بیماری کے باوجود زندہ ہے۔ یہ ایک پھپھوندی سے پھیلنے والی بیماری ہے جو دختوں کو ختم کر دیتی ہے اس نے برطانیہ کے تقریباً 3 کروڑ ایلم درختوں میں سے بیشتر کو تباہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اتنی مشکلات کے برداشت کرنے کے باوجود مقابلے میں فاتح قرار پایا۔

یہ درخت 19ویں صدی کے وسط میں نیوکاسل کے ساحلی راستے پر وِچ ایلم درختوں کی ایک قطار میں لگایا گیا تھا۔ ان درختوں کا مقصد مرکزی سڑک کو سمندری ہواؤں سے محفوظ رکھنا تھا۔ بعد میں شہر کی تعمیرِ نو کے دوران ان میں سے بہت سے درخت کاٹ دیے گئے، اور اب یہ جھکا ہوا درخت اس قطار کا واحد باقی رہ جانے والا درخت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 3000 سال پرانا زیتون کا درخت، جو کسی عجوبے سے کم نہیں

اس سال کے مقابلے میں نامزد ہونے والے دیگر درختوں میں انگلینڈ کے شہر سرے کے علاقے کروہرسٹ کا کروہرسٹ یو  بھی شامل تھا۔

ٹاپ 10 کی فہرست میں انگلینڈ کے ڈیون علاقے کے کلم اسٹاک  یو کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ یہ درخت ایک چرچ کے 20 میٹر بلند مینار کے اوپر قائم ہے اور اس کی موجودگی اتنی پرانی ہے کہ مقامی باشندوں کی یادداشت سے بھی پہلے کی بتائی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ٹری آف دی ایئر کا اعزاز گلاسگو کے ایک مصروف ترین راستے پر گھروں کو سایہ فراہم کرنے والے 75 فٹ بلند ایش درخت کو ملا تھا۔