Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فرانس میں ہیکرز کا انوکھا سائبر حملہ، سپر مارکیٹس کے فریج کا درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچا دیا

اس واقعے نے نہ صرف سپر مارکیٹوں کے کاروباری نظام اور مالی تحفظ بلکہ غذائی اشیا کو محفوظ رکھنے کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں

 فرانس میں ایک غیر معمولی سائبر حملے نے سیکڑوں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹم کو متاثر کردیا، جس کے باعث فریجوں اور فریزرز کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا اور بڑی مقدار میں تازہ و منجمد غذائی اشیا ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

بی بی سی کے مطابق ہیکرز نے مبینہ طور پر ریفریجریشن یونٹس کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کرکے ان کا نظام اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس کے نتیجے میں بعض اسٹورز کے فریجوں اور فریزرز کا درجہ حرارت رات کے وقت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔

فرانسیسی سپر مارکیٹ چین کوآپریٹو یو کے چیف ایگزیکٹو نے اس واقعے کو انتہائی سنگین اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کے 100 سے زائد اسٹورز اس حملے سے متاثر ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، انٹرمارشے اور اس کے ذیلی برانڈ نیٹو  کے کم از کم 300 اسٹورز بھی سائبر حملے کی زد میں آئے۔

رائٹرز کے مطابق، انٹرمارشے نے بتایا کہ رات کے دوران اس کے بعض ریفریجریشن یونٹس کا درجہ حرارت تقریباً چھ گھنٹے تک 50 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

پیر کی صبح سپر مارکیٹ کے ملازمین نے جب فریزر کھولے تو بعض مقامات پر انہیں اندر سے گرم ہوا محسوس ہوئی۔ اس غیر معمولی صورتحال نے اشیائے خورونوش کے محفوظ رہنے کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کردیے۔

صارفین کی صحت کو لاحق ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے انٹرمارشے نے متاثرہ ریفریجریشن یونٹس میں موجود تمام غذائی اشیا تلف کردیں۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم ٹی وی نے ایک تصویر بھی نشر کی، جس میں آئس کریم کے سیکشن میں موجود ایک فریزر کا درجہ حرارت 26.5 ڈگری سینٹی گریڈ دکھایا گیا تھا۔

سائبر حملے کے نتیجے میں ہونے والے مجموعی مالی نقصان کا حتمی تخمینہ تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق نقصانات بھاری ہوسکتے ہیں۔

بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق، فرانس کے علاقے الساس میں دو سپر مارکیٹس کو مجموعی طور پر 270,000 یورو، یعنی تقریباً 228,000 برطانوی پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔

اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مختلف علاقوں میں متاثرہ اسٹورز کے نقصانات کو یکجا کیا جائے تو مجموعی مالی نقصان لاکھوں یورو تک پہنچ سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی اور عوامی صحت پر سوالات

اس واقعے نے نہ صرف سپر مارکیٹوں کے کاروباری نظام اور مالی تحفظ بلکہ غذائی اشیا کو محفوظ رکھنے کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ریفریجریشن سسٹم میں درجہ حرارت کی غیر معمولی تبدیلی سے گوشت، دودھ، آئس کریم اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتی ہیں اس لیے متاثرہ مصنوعات کو تلف کرنا صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام تھا۔

تاحال دستیاب اطلاعات کے مطابق، حملے میں ملوث ہیکرز کی شناخت، سائبر حملے کے طریقۂ کار اور اس کے ممکنہ محرکات کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

واقعے نے واضح کردیا ہے کہ جدید سپر مارکیٹوں میں ڈیجیٹل نظاموں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث سائبر سیکیورٹی کی کمزوری محض ڈیٹا چوری تک محدود نہیں رہتی بلکہ خوراک کے تحفظ، کاروباری تسلسل اور عوامی صحت کو بھی براہ راست متاثر کرسکتی ہے۔

Exit mobile version