اسلام آباد: ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترامیم متعارف کروادی ہیں۔
ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترامیم متعارف کرواتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق ریٹیلرز کو ایف بی آر کے کمپیوٹر سسٹم سے منسک کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ رجسٹرڈ ریٹیلرز کا ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سمیت ہر قسم کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا جب کہ پوائنٹ آف سیل پر ٹرانزیکشنز کی سی سی ٹی وی نگرانی بھی ہوگی، ای انوائسنگ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر ایف بی آر کے سسٹم سے منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ آؤٹ لیٹ، پوائنٹ آف سیل اور الیکٹرانک انوائسنگ مشین کی معلومات دینا لازمی ہوگا۔ الیکٹرانک انوائس مشین انوائس ڈیٹا جنریٹ، ریکارڈ اور اسٹور کرے گی جب کہ محفوظ شدہ انوائس ڈیٹا ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو بھجوایا جائے گا۔
نوٹیفیکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کے منفرد انوائس نمبر کے ساتھ کیو آر کوڈ جنریٹ کیا جائے گا۔ پوائنٹ آف سیل کا یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ ڈیٹا مرتب کیا جائے گا جب کہ ریکارڈ میں کسی بھی تبدیلی، ترمیم یا منسوخی کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
ایف بی آر نے کہا کہ فراڈ یا گڑ بڑ کی صورت میں الیکٹرانک انوائس سافٹ ویئر ایف بی آر کو الرٹ جاری کرے گا، ایف بی آر سسٹم سے منسلک کاروبار ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کی سہولت کو بھی لنک کرے گا۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹرانزیکشنز کا ایک ماہ تک ریکارڈ محفوظ کرنا ضروری ہوگا اور معلومات طلب کرنے پر متعلقہ ٹیکس کمشنر کو فراہم کرنا ہوں گی جب کہ پہلے سے رجسٹرڈ شدہ پوائنٹ آف سیل پر بھی قوانین کا اطلاق ہوگا۔



















