Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایرانی تجویز مسترد کرنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

جنگ سے قبل اس گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز گزرتے تھے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کو ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم بعد ازاں کچھ کمی کے بعد نومبر کے لیے برینٹ فیوچرز 107.35 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتے رہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کی تازہ تجویز مسترد کرنا ہے۔ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز قابل قبول نہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جمعے کو سامنے آنے والی ایرانی تجویز کے تحت امریکا کو منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، جبکہ اس کے بدلے ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے اور اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار تھا۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی مجموعی تیل کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ اسی گزرگاہ سے منتقل ہوتا تھا۔ فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خلیج میں بحری جہازوں پر متعدد حملوں کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔

بحری نگرانی کے ادارے میرین ٹریفک کے مطابق 21 سے 27 ستمبر کے دوران آبنائے ہرمز سے 132 بحری جہاز گزرے، جبکہ اس سے گزشتہ ہفتے یہ تعداد 116 تھی۔ تاہم جنگ سے قبل اس گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز گزرتے تھے۔

دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی ملا جلا رجحان رہا۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 0.73 فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 2.70 فیصد گر گیا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.54 فیصد اور آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی/اے ایس ایکس 200 انڈیکس 0.17 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ جمعے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.5 فیصد اضافے پر بند ہوا تھا۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی توانائی کی رسد اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version