Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق اقدامات کی رپورٹ طلب

سپریم کورٹ نے تمام صوبوں سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق اقدامات کی رپورٹس طلب کر لیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بچوں کی انسانی اسمگلنگ کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں یونان کشتی حادثے کا تذکرہ ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یونان میں ہونے والا کشتی حادثہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ سادہ لوح غریب شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے، شہری انسانی اسمگلروں کے دھوکے میں آ کر لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین اور بچوں کی بھی انسانی اسمگلنگ ہو رہی ہے، کیا حکومت کے پاس بچوں کی اسمگلنگ کے اعداد و شمار ہیں؟

چیف جسٹس کے سوال پر ڈی جی وزارت انسانی حقوق نے کہا کہ بدقسمتی سے درست اعدادوشمار موجود نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے بنائے گئے 2018 کے قانون میں ابہام ہے، بنیادی مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کیلئے اسپیشلسٹ فورس نہ ہونا بھی ہے، انسانی اسمگلنگ روکنے کا کام بھی پولیس کے ذمہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بھی انسانی اسمگلنگ روکنے کیلئے کردار ادا کرنے کا کہا جبکہ سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے طیبہ تشدد کیس بھی سنا تھا۔

انکا کہنا ہے کہ ہمیں معاشرے کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے، ہمارا دینی فریضہ ہے کہ معاشرے کے زپسے طبقات کا تحفظ کریں، ماں کا کردار ادا کرنا صرف حکومت کا کام نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت کو بچوں، خواتین سمیت انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے پالیسی مرتب کرنا ہو گی، انسانی اسمگلنگ کے روک تھام کی پالیسیز بنانے اور ان پر عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔

عدالت نے صوبوں سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق اقدامات کی رپورٹس، تعلیم سے محروم بچوں کے اعداد و شمار طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version