Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ؛ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نظرثانی قانون کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کو آئین سے متصادم ہے، پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی۔

عدالت نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا۔

تحریری حکم نامہ

سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کا 87 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے آئین کا تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے، کسی بھی قانون کو کالعدم قراردینے کے اختیار کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق ایک قانون کو اس وقت کالعدم قرار نہیں دینا چاہیے جب اس کی شقیں آئین سے ہم آہنگی رکھتی ہوں، ریویو اف ججمنٹ آئین پاکستان سے واضح طور پر متصادم ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ اس قانون کو آئین سے ہم آہنگ قرار دیا جائے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نظرثانی کے دائرہ کار پر سپریم کورٹ کے فیصلوں میں کوئی ابہام نہیں، آرٹیکل 188 اور اس پر عدالتی فیصلوں کی پابندی سب پر لازم ہے، پارلیمان کو علم ہے کہ اپیل اور نظرثانی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

حکم نامے کے مطابق نظرثانی کا دائرہ کار اپیل تک بڑھانے کا مطلب آئین میں ترمیم ہے، آئین میں ترمیم عام قانون سازی کے ذریعے ممکن نہیں ہے، قانون برقرار رہا تو نظرثانی درخواستوں کا سیلاب امنڈ آئے گا، قانون میں کہا گیا کہ ماضی کے عدالتی فیصلوں میں متاثرہ افراد بھی نظرثانی دائر کر سکیں گے، جو فیصلے حتمی ہوچکے ان پر نظرثانی مقررہ مدت کے بعد دائر نہیں ہوسکتی۔

جسٹس منیب اختر کا فیصلے میں اضافی نوٹ

ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کے تحریری فیصلے میں جسٹس منیب اختر نے اضافی نوٹ لکھا جس میں انکا کہنا تھا کہ اپیل اور نظرثانی مترادف نہیں بلکہ مختلف چیزیں ہیںیمان کا قانون سازی اور سپریم کورٹ کے رولز بنانے کے اختیارات برابر ہیں، پارلیمان کی سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ رولز کو غیرموثر نہیں کیا جا سکتا۔

 خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 19 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جبکہ پنجاب انتخابات کیس میں حکومت نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ پیش کر کے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے 14 مئی کو پنخاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی درخواست دائر کی تھی۔

الیکشن کمیشن نظرثانی پر سماعت کے دوران حکومت نے ریویو ایکٹ کا نیا قانون پارلینٹ سے منظور کرالیا تھا تاہم ریویو ایکٹ میں نظر ثانی کے دائرہ کو اپیل کے دائرہ تک وسیع کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 23 مارچ کو پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات ملتوی کردیے تھے جو 30 اپریل بروز کو شیڈول تھے، اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ فیصلہ آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔

فیصلے کے ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کیلئے 25 مارچ کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version