لاہور ہائیکورٹ نے صدر مملکت کو عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے احکامات کیلئے درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی معاونت کیلئے طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عابد عزیز شیخ نے صدر مملکت کو عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے احکامات کے لئے درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے تحت آخری مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر ہی نئی حلقہ بندیاں ہونی ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کے لئے مختلف ٹائم لائنز ہیں، ان ٹائم لائنز کو کم کرنا الیکشن کمیشن کے لئے ممکن نہیں، اس ٹائم لائن کےمطابق نئی حلقہ بندیوں کےلئےکم از کم چار ماہ درکار ہیں، یہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اسی لئے ہر کوئی اس معاملے میں حساس ہے۔ اگر جون میں مردم شماری ہوگئی تھی تو اسکی منظوری کیوں نہیں دی گئی۔ جو بھی ٹائم لائن بنتی ہے اسے نوے دن کےاندر اندر لایا جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اسمبلیاں اچانک تحلیل نہیں ہوئیں اس معاملے سے ہر کوئی آگاہ تھا، الیکشن کمیشن کو اپنی تیاری ہرصورت مکمل رکھنی چاہیے تھی، جو بھی ٹائم لائن ہے الیکشن کرانے کی ٹائم لائن نوے دن ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے صدر کے پرنپسل سیکریٹری، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام فریقین سے تفصیلی جواب طلب کرلیا اور سماعت 06 ستمبر تک ملتوی کردی۔
درخواست گزار کی بول سے گفتگو
درخواست گزار مقسط سلیم ایڈووکیٹ نے بول نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کےتحت اسمبلیوں کی تحلیل کےبعد صدر مملکت عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوے روز میں انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے، عدالت نے ہماری درخواست پر تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
