اسلام آباد کی آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت کی سماعت کا تحریری حکم نامہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی جانب سے جاری کیا گیا۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت نے ضمانت کی درخواست پر فریقین کو دلائل کے لئے طلب کر رکھا تھا۔
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ اپنے ہائیکورٹ میں اس کیس سے متعلق دائر دو متفرق درخواستوں پر فیصلہ زیر التواء ہے، ضمانت پر فریقین کے دلائل آج نہیں سنے جاسکتے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ متفرق درخواستوں پر دلائل کے ساتھ ضمانت کی درخواست پر پیر کو دلائل طلب کرلئے ہیں اور عدالت نے کیس کی سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
گزشتہ روز سائفر کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسپیشل سیکریٹ کورٹ کے جج نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال کی سزا کے بعد گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا اور دوران حراست ہی ایف آئی اے نے بھی انہیں سائفر گمشدگی کیس میں گرفتار کر لیا تھا۔
چند روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کر دی تھی تاہم سائفر کیس میں گرفتاری کی وجہ سے ان کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
