Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائفر کیس؛ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

راولپنڈی: آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کردی۔

تفصیلات کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے عثمان ریاض گل، عمیر نیازی اور خالد یوسف اڈیالہ جیل میں پیش ہوئے جبکہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے تیمور ملک اور راجہ قمر عنائیت بھی آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت پہنچے۔

عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کیس کے گواہ 27 اکتوبر کو طلب کر لئے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین اور شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی گفتگو

سماعت کے بعد ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چالان کی نقول تقسیم کرنے کے حوالے آج بھی وکلاء کی جانب سے بحث کی گئی۔آج کا دن فرد جرم عائد کرنے کیلئے مقرر تھا۔

انہوں نے کہا کہ اوپن کورٹ میں فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی، فرد جرم سنتے وقت چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی عدالت میں موجود تھے۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سائفر کیس کی آئندہ سماعت 27 اکتوبر کیلئے مقرر کی گئی ہے، اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو عدالت نے طلب کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین پر 17 اکتوبر کو سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی جانی تھی مگر عائد نہ ہوسکی کیونکہ وکیل صفائی کی جانب سے چالان کی نقول فراہم نہ کرنے پر اعتراض کیا گیا تھا۔

سائفر معاملہ کیا ہے؟

واضح رہے کہ مارچ 2022 میں ایک جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی جیب سے خط نکال کر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ان کی بیرونی پالیسی کے سبب “غیر ملکی سازش” کا نتیجہ تھی اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز بھیجے گئے۔

سابق وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں انہوں نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا تھا۔

سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

سابق وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے تحریری بیان میں بتایا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے پاکستان آرمی کی ہائی کمان کے خلاف ٹارگٹڈ پلان کیا، انہوں نے سیاسی مقاصد اور عدم اعتماد میں ریسکیو کے لیئے پلان تیار کیا۔

 اعظم خان نے تحریری بیان میں بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اداروں پر تحریک عدم اعتماد میں مدد کے لئے ڈباؤ ڈالنا چاہتے تھے، سائفر کے حوالے سے اسپیکر کے غیر قانونی رولنگ چیئرمین پی ٹی آئی کی بطور وزیر اعظم ہدایات پر دی گئی، انہوں نے سائفر کی کاپی حاصل کی اور بعد میں کہا کہ کاپی گم ہو گئی، عمومی طور پر سائفر جس چینل سے آتا ہے اسی چینل سے واپس بھیجا جاتا ہے۔

 8مارچ کو سائفر سے متعلق فارن سیکرٹری کا ٹیلی فون آیا، ٹیلیفون پر اس کی کاپی وزیر اعظم آفس کو بھجوانے سے متعلق بتایا گیا، فارن سیکریٹری نے کہا کہ 9 مارچ کو اس کی کاپی وزیر اعظم کے حوالے کریں۔

مرکزی گواہ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے 9 مارچ کو سائفر پر رائے دی، وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی اس معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔

تحریری جواب میں اعظم خان نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نے اس معاملے پر اداروں کے خلاف مؤثر بیانہ بنانے کو کہا تھا۔ انہوں نے سائفر کو اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی عدم اعتماد تحریک سے متعلق بیانیہ بنانے کا کہا، انہوں نے مجھ سے سائفر کی کاپی مانگی اور کہا کہ میں اس کو مزید پڑھنا چاہتا ہوں، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو کاپی دے دی اور انہوں نے اپنے پاس رکھ لی، سائفر سے متعلق جب میں نے کاپی واپس مانگی تو کہا گیا کہ کاپی ادھر ادھر ہو گئی ہے۔

تحریری جواب میں اعظم خان نے مزید بتایا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے ملٹری سیکیریٹر اور اپنے پرنسنل اسٹاف کو کاپی ڈھونڈنے سے متعلق ہدایات دی، سابق وزیر اعظم سائفر کو ایک غیر ملکی سازش کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے، سابق وزیر اعظم سائفر کو وکٹم کارڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ سائفر کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر چیئرمین پی ٹی آئی کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی، پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس سائفر میں چیئرمین پی ٹی آئی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکا کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی، پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اسی کیس میں ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں جبکہ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما اسد عمر ضمانت پر ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version