Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی سے متعلق تمام کیسز ایک ساتھ سننے کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق تمام کیسز ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی مدت سے متعلق میر بادشاہ قیصرانی کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ نااہلی مدت کے سوال والے تمام کیس جنوری 2024 کے آغاز پر ایک ساتھ مقرر کیے جائیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ان اپیلوں اور ان میں اٹھائے گئے سوالات کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کو مؤخر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ 2008 کے عام انتخابات میں الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن تھی، کچھ امیدواروں نے جعلی ڈگریاں جمع کرائیں جس پر انہیں نااہلی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کو تاحیات نااہلی کے ساتھ دو سال کی سزا سنائی گئی، دو سال سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں زیر التوا ہے۔

تحریری حکم نامے میں بتایا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی سزا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی ہے، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 232 (2) کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے، الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم 26 جون 2023 کو کی گئی، جب الیکشن ایکٹ سیکشن 232(2) کو چیلنج کرنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو وکلاء کی جانب سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔

حکم نامے کے مطابق تمام وکلاء نے کہا تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے حکم اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232(2) سے غیر ضروری کنفیوژن پیدا ہوگی، نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے، غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے الیکشن ٹربیونلز اور عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھے گا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت آئین کی تشریح کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ ہونا چاہیے، یہ وفاقی قانون، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کا معاملہ ہے جو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن، اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے انگریزی اور اردو کے بڑے اخبارات میں بھی نوٹس شائع کیے جائیں۔

عدالت نے آئینی و قانونی نکات پر تحریری جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان اپیلوں اور ان میں اٹھائے گئے سوالات کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کو مؤخر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، درخواستوں کو آئندہ سال جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version