تاحیات نااہلی کی سزا کاٹنے والے سیاست دانوں کے لیے خوشخبری آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تاحیات نااہلی کی سزا کی آئینی تشریح کے لیے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر سات رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
ارکان پارلیمان آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کا فیصلہ دو جنوری کو ہوگا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں لارجر بینچ ازخود نوٹس کی سماعت کرے گا، تاہم سپریم کورٹ 2 جنوری 2024 کو تاحیات نااہلی معاملے پر سماعت کرے گی۔
آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات دیے گیے سیاستدانوں سے پبلک نوٹس کے ذریعے جواب طلب کرلیا گیا ہے، وہ تمام سیاست دان جو تاحیات نااہلی کی سزا کے پیش نظر انتخابات نہیں لڑ سکتے وہ اب سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کی سکیشن 232 اور آرٹیکل 62 ون ایف میں تضاد پر نوٹس کیا تھا جبکہ پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے تاحیات نااہلی الیکشن ایکٹ میں ختم کرکے ون ٹرم کی کردی تھی۔
