اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں درختوں کی کٹائی پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، وائلڈ لائف بورڈ اور حکومت کو نوٹس جاری کر دیے۔
چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایف نائن پارک اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ قوم درختوں کو ترس رہی ہے، سی ڈی اے ایف نائن پارک میں درخت کاٹ رہا ہے۔
عدالت نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے درختوں کی کٹائی سے متعلق نوٹ ججز کمیٹی کو پیش کیا، تین رکنی ججز کمیٹی نے معاملہ بنیادی حقوق کا قرار دیتے ہوئے نوٹس لیا۔
سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا اور تمام فریقین کو آئندہ سوموار تک رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
درختوں کی کٹائی کس کے حکم پر ہو رہی ہے؟ عدالت نے اس حوالے سے سی ڈی اے سے مکمل ریکارڈ طلب کرلیا اور درختوں کی کٹائی پر آنے والے اخراجات اور دیے گئے ٹھیکے کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
سپریم کورٹ نے پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے صدر اور سیکرٹری کو کمیشن مقرر کر دیا اور کہا کہ وکلاء سعد ہاشمی اور حسن رضا کیس میں عوام کی نمائندگی کرینگے۔
