لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست پر فریقین کے وکلاء کو مزید دلائل کے لئے طلب کرلیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شکیل احمد نے الیکشن ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر عدالت نے ایک اور درخواست گزار سید اقتدار شاہ کو کیس میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی کاپی عدالت میں پیش کردی۔
درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل دیے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ترمیمی الیکشن ایکٹ بدنیتی پرمبنی اور آئین کی روح کےخلاف ہے، آئین کے تحت اس قانون کا اطلاق ماضی سے عمل میں نہیں لایاجاسکتا، سادہ اکثریت کے بارے میں آئین واضع ہے مگر اس قانون کےتحت آئین توڑنے کی کوشش کی گئی۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت الیکشن ترمیمی ایکٹ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کرے۔
عدالت نے فریقین کے وکلاء کو مزید دلائل کے لئے طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی۔
