Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چاند پر راتوں رات 222 میٹر دیوہیکل گڑھا بن گیا، ناسا بھی حیران

چاند کی سطح ہماری سابقہ سمجھ سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، تحقیق

چاند کی سطح پر ایک ایسا دیوہیکل گڑھا دریافت ہوا ہے جو حالیہ دور میں نظامِ شمسی میں کسی بھی جگہ بننے والا سب سے بڑا مشاہدہ شدہ امپیکٹ کریٹر قرار دیا جا رہا ہے۔

سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ گڑھا تقریباً 222 میٹر یعنی 728 فٹ چوڑا ہے، جو روم کے مشہور کولوسیئم سے بھی بڑا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ گڑھا 11 اپریل سے 22 مئی 2024 کے درمیان کسی شہابیے یا دمدار ستارے کے ٹکڑے کے چاند سے ٹکرانے کے نتیجے میں بنا۔ اس خلائی ملبے کا حجم تقریباً 3 سے 6 منزلہ عمارت کے برابر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

حیرت انگیز طور پر یہ زوردار ٹکر زمین اور خلا میں موجود دوربینوں کی نظروں سے بھی اوجھل رہی۔ بعد ازاں ناسا کے لونر ریکونیئسنس آربیٹر نے اس کا سراغ لگایا۔

اگست 2025 میں خلائی جہاز کی وسیع زاویے سے لی گئی تصاویر کے خودکار موازنے کے دوران نئے گڑھے کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد ہائی ریزولوشن تصاویر سے اس کی تصدیق کی گئی۔

اس نئے گڑھے کو قمری سائنس دان تھامس میک گچن کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ ناسا کے پہلے دریافت کردہ ریکارڈ ہولڈر گڑھے سے تقریباً تین گنا زیادہ چوڑا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ایسے بڑے ٹکراؤ انتہائی نایاب ہیں اور اوسطاً تقریباً 132 سال میں ایک مرتبہ رونما ہونے کا اندازہ ہے۔ ٹکراؤ کے دوران چاند کی سطح سے مٹی اور چٹانیں انتہائی تیزی سے اچھل کر دور تک پھیل گئیں، جبکہ بعض اثرات گڑھے کے رداس سے ایک ہزار گنا سے بھی زیادہ فاصلے تک دیکھے گئے۔

ایک اور تحقیق میں گڑھے کے گرد تقریباً 6.4 کلومیٹر چوڑے علاقے میں حرارتی خصوصیات میں تبدیلی بھی دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹکراؤ نے چاند کی اوپری مٹی، جسے ریگولِتھ کہا جاتا ہے، کو بڑے پیمانے پر الٹ پلٹ کر دیا۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت چاند کی سطح پر ہونے والے ٹکراؤ اور اس کی مسلسل تبدیلی کو سمجھنے کا نادر موقع فراہم کرتی ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل کے قمری مشنز اور چاند پر بنائے جانے والے انسانی اڈوں کی منصوبہ بندی میں بھی مدد مل سکتی ہے، خصوصاً اس بات کا اندازہ لگانے میں کہ کسی بڑے خلائی ٹکراؤ کے بعد ملبہ کتنی دور تک پہنچ سکتا ہے۔

تحقیق سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ چاند کی سطح ہماری سابقہ سمجھ سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مسلسل خلائی ملبے کی بمباری سے ہونے والی ’قمری باغبانی‘ کے باعث ممکن ہے کہ اپولو مشنز کے دوران خلا بازوں کے چھوڑے گئے تاریخی قدموں کے نشانات بھی مستقبل میں مٹی تلے دب جائیں یا وقت کے ساتھ مٹ جائیں۔