پاکستان شوبز انڈسٹری کی مشہور و معروف اداکارہ مہوش حیات نے کہا ہے کہ پاکستانی فلموں میں خواتین کے کرداروں کو برائے نام شامل کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں اداکارہ مہوش حیات کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلموں میں خواتین کے کرداروں کو برائے نام شامل کیا جاتا ہے جنہیں عام طور پر ضرورت کے تحت کمزور یا بے معنی کرداروں میں دکھایا جاتا ہے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ ہالی ووڈ میں تمام لوگ پروفیشنل ہوتے ہیں اور وہاں ہر کام وقت پر ہوجاتا ہے لیکن پاکستان میں عام طور پر شوٹنگ کم از کم دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوتی ہے۔
اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی اداکار پروفیشنل اور ہارڈ ورکر ہیں مگر اس باوجود یہاں پر شوٹنگ دو گھنٹے کی تاخیر سے ہونا عام بات ہے لیکن ہالی ووڈ میں ایسا نہیں ہوتا، انہیں وہاں کام کر کے بہت مزہ آیا اور ان کی خواہش تھی کہ وہ ہمیشہ ہالی ووڈ کے سیٹ پر کام کرتی رہیں۔
View this post on Instagram
مہوش حیات کا کہنا تھا کہ ہالی ووڈ میں ہیروئنز کے کردار طاقتور اور بامعنی ہوتے ہیں جبکہ پاکستانی فلموں میں ایسے کردار برائے نام یا ضرورت ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فلموں میں ہیروئنز کو بے معنی اور کمزور کردار دیے جاتے ہیں، انہیں گلیمر اور بولڈ کرداروں میں دکھایا جاتا ہے۔
View this post on Instagram
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہیروئنز فلموں میں جمالیاتی حسن کے لیے شامل کی جاتی ہیں، ان کے کردار مضبوط اور اہمیت کے حامل نہیں ہوتے تاہم انہوں نے کسی بھی پاکستانی فلم کی کوئی مثال نہیں دی۔
اداکارہ نے ایک سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ وہ خود کو بہت ہی بڑی فیمنسٹ نہیں سمجھتیں، ان کی پرورش بھائیوں کے ساتھ ہوئی جس وجہ سے وہ بچپن میں ٹام بوائے کی طرح زندگی گزارتی تھیں۔
View this post on Instagram
مہوش حیات نے بطور فنکار سوشل میڈیا پر ذاتی چیزوں کو شیئر کرنے کی بھی مخالفت کی اور بتایا کہ وہ کوشش کرتی ہیں کہ ذاتی زندگی کی ہر بات کو سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی مشہور و معروف اداکارہ مہوش حیات نے مزید کہا کہ کیوں کہ شوبز شخصیات کو بہت سارے لوگ فالو کر رہے ہوتے ہیں اور ان کی باتوں کا اثر بھی ہوتا ہے تو اس لیے فنکاروں کو سوشل میڈیا پر احتیاط کرنی چاہئیے۔
View this post on Instagram















