پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ کا ویڈیوز لیک سے متعلق نیا بیان سامنے آگیا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ سے ایک انٹرویو کے دوران صحافی نے پردے سے متعلق سوال کیا تو ٹک ٹاک اسٹار ان پر برس پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ پردے کا بہت خیال رکھا جاتا ہے، میں کہاں پر ننگی ہوکر پھررہی ہوں؟ کہاں پر بے لباس ہوئی ہوں، سر پر دوپٹہ کرنا یا نہ کرنا وہ میرا اپنا فعل ہے، یہاں پر بہت ساری خواتین ہیں جو سر پر دوپٹہ نہیں کرتیں ‘۔
یہ بھی پڑھیں: غیر اخلاقی ویڈیوز لیک، حریم شاہ کا ردعمل سامنے آگیا
حریم شاہ نے کہا کہ ’ پردے کے بارے میں کوئی بحث و مباحثہ نہیں کرنا چاہوں گی کیونکہ پردہ مرد کے لیے ناف سے گھٹنوں تک ہے، عورت کے لیے ہاتھ اور پاﺅں کے علاوہ پورے کا پورا جسم ڈھانپنا پردہ ہے لیکن میں پردے پر بحث نہیں کرنا چاہتی ‘۔
معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ نے کہا کہ ’ یہ میری مرضی ہے، میرا اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ میں سر پر دوپٹہ لیتی ہوں یا نہیں لیکن مردوں کو بھی کہوں گی کہ اب کو بھی نگاہ کو نیچے رکھنے کا حکم ہے، مرد کی آنکھ میں بھی حیا ہونی چاہیے، بے حیائی مرد کرے یا عورت ، میرے خیال میں دونوں برابر ہیں ‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ اگر پاکستان میں کوئی مرد بے حیا ہے تو اس کو بھی بے حیا کہنا چاہیے، اگر عورت بے حیا ہے تو اس کو بھی بے حیا کہنا چاہیے لیکن اگر یہاں پر عورت سے کوئی غلطی ہوجائے تو بہت زیادہ چرچے ہوتے ہیں ، اس کو ایکسپوز کیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی مرد کرتا ہے تو اسے بہادر قرار دیا جاتا ہے کہ یہ مرد کا بچہ تھا ‘۔
حریم شاہ نے کہا کہ ’ ایسے مردوں کو بھی ننگا کیا جائے اور کوڑے لگائے جائیں، سنگسار کیا جائے، مرد عورتوں سے زیادہ گناہوں میں ملوث ہیں ‘۔
معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ نے کہا کہ ’ گاڑیوں میں عورتوں کو کون گھسیٹ رہا ہے؟ عورتوں کے ساتھ زیادتی کون کررہا ہے، یہ مرد ہی ہے، عورت کو تحفظ نہیں ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ‘۔
یہ بھی پڑھیں: حریم شاہ کی شوہر کے ہمراہ متنازع ویڈیو وائرل؛ صارفین برہم
انہوں نے کہا کہ ’ عورت ٹیکسی میں کہیں نہیں جاسکتی، ایک عورت اپنے بچوں کے ساتھ کہیں نکل نہیں سکتی، اگر آپ عورت کی حیا کی بات کرتے ہیں تو مرد کی حیا کہاں چلی گئی ہے، مرد کیوں ایسا کررہے ہیں ‘۔
حریم شاہ نے کہا کہ ’ جو بھی بڑے کیسز آرہے ہیں ان میں مرد ملوث ہیں، جو موٹروے پر ہوا ہے وہ بھی مردوں نے کیا ہے، وہ کسی عورت نے تو نہیں کیا، وہاں پر ایک عورت کی عزت لوٹی گئی تھی ‘۔
