قوالی کے فن کو نئے انداز میں پیش کرنے اور اسے بلندیوں پر پہنچانے والے عالمی شہرت یافتہ شہنشاہ قوال،غزل گائیک اور موسیقار استاد نصرت فتح علی خان کا آج پچھترواں یوم پیدائش ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان کلاسیکی اور صوفی گائیکی میں 600 سالہ ورثہ رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ایک بہترین قوال کے طور پر مشہور تھے، تاہم انہوں نے بعد میں قوالی کے فن کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا، جنہیں دنیا بھر میں سراہا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شاندار فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کے علاوہ کئی دیگر ممالک اور اقوام متحدہ نے انہیں اعزازات سے نوازا ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے انہوں نے پاپ اور کلاسیکی موسیقی کو یک جاں کر کے موسیقی کو ایک نئی جہت بخشی، یہی وجہ ہے کہ انہیں شہنشاہ قوالی بھی کہا جاتا ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان نے اپنے والد فتح علی خان سے قوالی کی تربیت حاصل کی، جوکہ اپنے وقت کے بہت بڑے قوال تھے۔ 1964 میں والد کی وفات کے بعد انھوں نے موسیقی کی تربیت اپنے چچا استاد مبارک علی خان سے حاصل 1971 چچا مبارک فتح علی خان کی وفات کے بعد وہ قوالی پارٹی کے سربراہ بنے، اور اس طرح ان کے قوالی سفر آغاز ہوا۔
استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں مقبول بنانے میں صرف کر دی۔ انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔
نصرت فتح علی خان کی قوالیوں کے 25 البم ریلیز ہوئے جن کی شہرت نے انہیں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی، ابتداء میں حق علی علی اور دم مست قلندر وہ کلام تھے جس سے انہیں شناخت ملی۔
ان کے مقبول نغموں میں انکھیاں اڈیک دیاں، یار نا وچھڑے، میرا پیا گھر آیا اور میری زندگی سمیت متعدد قوالی شامل ہیں۔
نصرت فتح علی خان کی ایک حمد ’وہ ہی خدا ہے‘ کو بھی بہت پذیرائی ملی جبکہ ایک ملی نغمے ’میری پہچان پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے گایا گیا گیت ’جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم‘ آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہیں۔
نصرت فتح علی خان کو بھارت میں بھی بے انتہا مقبولیت اور پذیرائی ملی جہاں انہوں نے جاوید اختر، لتا مینگیشکر، آشا بھوسلے اور اے آر رحمان جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔
واضح رہے کہ نصرت فتح علی خان کے بھتیجے و شاگرد استاد راحت فتح علی خان آج بھی ان کا نام زندہ و تابندہ رکھے ہوئے ہیں۔
استاد نصرت فتح علی خان کو موسیقی کی تاریخ کی عظیم آوازوں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔ قوالی کے بے تاج بادشاہ اپنی خوبصورت آوازا ور انداز کی وجہ سے آج بھی اپنے مداحوں کے دلوں میں بستے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















