معروف پاکستانی ٹک ٹاکر عالیان کو سزائے موت کا حکم دے دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے ٹک ٹاکر عالیان کو چوری، قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔
جج طاہرعباس سِپرا نے کہا کہ مجرم عالیان نے جائے وقوعہ کی خود نشاندہی کی، مجرم عالیان سے تیس بور پستول بھی برآمد ہوچکی، مجرم نے آلہ قتل کو جائے وقوعہ کے قریب جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا، عالیان کے مطابق قتل کی خبر ملنے پر پشاور میں موجود تھا لیکن بیان کا کوئی گواہ نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرم عالیان کے استعمال میں تیس بور پستول کا فرانزک میچ ہوا، مجرم کی گواہان نے شناخت بھی کی، قتل جان بوجھ کر کیا گیا، ثبوتوں، گواہان کی روشنی میں مجرم عالیان قتل اور چوری کا مرتکب ہوا، مجرم کو سزائے موت، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے، چوری کے جرم میں مجرم عالیان کو 7 سال قید، تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں ٹک ٹاکر محمد نیاز عرف عالیان نے مدعی مقدمہ کے بیٹے کو قتل کیا۔ مجرم عالیان نے 28 سالہ خرم اکبر سے گاڑی چھینی، قتل کر کے فرار ہوگیا۔
مقتول خرم اکبر رات گئے گوجرانوالہ سے اسلام آباد کی طرف آرہا تھا۔ مئی 2022 میں مجرم عالیان کے خلاف تھانہ گولڑہ میں قتل، چوری کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔




















