Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی 69 برسی آج منائی جارہی ہے

اردو زبان میں مختصر کہانیوں اور جدید افسانے کے منفرد اور بے باک مصنف سعادت حسن منٹو کی 69 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

منٹو کے قلم نے جہاں  مخصوص طورپر ذہنی ہیجانات اور فطرتِ انسانی کی عکاسی کی وہیں ان کا قلم  معاشرتی ناسوروں کے لئے نتشر ٹہرا ہے۔

اردو کے کلاسک ادیب اور صاحب اسلوب افسانہ نویس سعادت حسن منٹو منٹو نے جب اپنے دور میں معاشرے کی ننگی سچائیوں کو افسانوں کا موضوع بنایا تو اخلاقیات کے نام نہاد علم بردار پریشانی کا شکار ہو گئے اور ان کے خلاف محاذ بنا لیا۔

اس منفرد اور بے مثال افسانہ نگار کے قلم کی کاٹ کے سامنے منافقانہ روش رکھنے والے سماج کے اخلاق کے نام نہاد محافظ نہیں ٹک سکے، منٹو کی اس روش کے خلاف یہی بغاوت ان کی شہرت کا باعث بنی۔

منٹو کے مضامین کا دائرہ معاشرتی تقسیمِ زرکی لاقانونیت اور تقسیمِ ہند سے قبل انسانی حقوق کی پامالی رہا اور مزید متنازع فیہ موضوعات پر کھل کر قلم طراز ہوتا رہا جن پر کئی بار انھیں عدالت کے کٹہرے تک بھی جانا پڑا مگر قانون انھیں کبھی سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیج سکا۔

منٹو کا ہمیشہ یہی کہنا رہا کہ ’’میں معاشرے کے ڈھکے ہوئے یا پس پردہ گناہوں کی نقاب کشائی کرتا ہوں جو معاشرے کے ان داتاؤں کے غضب کا سبب بنتے ہیں اگر میری تحریر گھناؤنی ہے تو وہ معاشرہ جس میں آپ لوگ جی رہے ہیں وہ بھی گھناؤنا ہے کہ میری کہانیاں اُسی پردہ پوش معاشرے کی عکّاس ہیں۔‘‘

ان کے تحریر کردہ افسانوں میں چغد، لاؤڈ اسپیکر، ٹھنڈا گوشت، کھول دو، گنجے فرشتے، شکاری عورتیں، نمرود کی خدائی، کالی شلوار، بلاؤز اور یزید بے پناہ مقبول ہیں۔

سعادت حسن منٹو11 مئی کو 1912پنجاب ہندوستان کےضلع لدھیانہ کے شہرشملہ میں پیدا ہونے ولاے منٹو نے ڈھائی سو سے زائد افسانے لکھے۔

منٹو نہ  کبھی تعریف پر اترایا نہ ہی تنقید سے گھبرایا اور یہی وجہ تھی کہ  منٹوصاحب انتہائی کسمپرسی کے حال میں دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں محض تینتالیس سال کی عمرمیں17 فروری 1955 میں  اس دارِفانی سے کوچ کرگئے۔