پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف و سینیئر اداکار محمود اسلم لائیو شو میں اپنے مرحوم والدین کو یاد کرکے رو پڑے۔
حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں معروف و سینیئر اداکار محمود اسلم نے بتایا کہ میرے ہاں پہلی بیٹی کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی، اُس وقت میری عُمر 24 برس تھی، جب اسپتال انتظامیہ نے مجھے میری مردہ بیٹی کفن میں لپیٹ کردی تو مجھے ایسا لگا تھا کہ میں دُنیا میں تنہا رہ گیا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کے انتقال پر ٹوٹ گیا تھا کیونکہ وہ میری پہلی اولاد تھی جو بچ نہیں سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے سارے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں، اسی وجہ سے والدین کے بہت قریب تھا۔
محمود اسلم نے بتایا کہ میں اپنے گھر کی بالائی منزل پر مقیم تھا جبکہ والدہ نچلی منزل پر رہتی تھیں، وہ میرے گھر آنے تک جاگتی رہتی تھیں اور مجھے دیکھنے کے بعد ہی سوتی تھیں۔
اداکار نے کہا کہ ایک رات میری والدہ کی طبیعت بگڑ گئی تھی تو میرے علاوہ، خاندان کے سب لوگ والدہ کے پاس آگئے تھے لیکن میری والدہ کی نظریں میرے انتظار میں دروازیں پر تھیں۔
انہوں نے کہا کہ میں جیسے ہی والدہ کے کمرے میں داخل ہوا تو اُنہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور اُس وقت مجھے لگا کہ جیسے کسی نے میرا دل نکال دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے والد نے اپنی زندگی کا آخری وقت اسپتال کے بستر پر گزارا، میں روزانہ والد کے پاس جاکر آیت الکرسی پڑھ کر اُن پر پھونکتا تھا، ایک رات، میں آیت الکرسی پڑھنا بھول گیا تھا اور اُسی رات میرے والد انتقال کرگئے تھے۔




















