پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف و سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے پاکستانی ڈراموں پر کڑی تنقید کی ہے۔
حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں معروف و سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا کہ پاکستان میں ماضی میں بھارتی ویب سیریز سے اچھا مواد بنتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 1990 میں بہترین ڈرامے بنے، ان ڈراموں میں معیوب سمجھے جانے والے موضوعات کو چھیڑا گیا، سوالات کیے گئے، مختلف زاویے دکھائے اور یہ سلسلہ 2000 تک بھی جاری رہا اور اس وقت تک بہترین ڈرامے بنتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ 1980 کا دور پاکستانی ڈراموں کے لیے اچھا نہیں رہا تھا، تاہم اس باوجود اس وقت بھی بہترین ڈرامے بن رہے تھے۔
ثانیہ سعید نے کہا کہ بعد ازاں سال 2000 کے اختتام پر کمائی اور چیزوں کے کمرشلائیزڈ ہونے سے پاکستانی ڈرامے کا بیڑا غرق ہوا۔
سینئر اداکارہ کا کہنا تھا کہ ”میڈ ان ہیون“ جیسے بھارتی ڈراموں سے کہیں زیادہ بہتر ڈرامے پاکستان میں ماضی میں بنا کرتے تھے اور ان ڈراموں میں اچھوتے موضوعات کو چھوا جاتا تھا، سوالات اٹھائے اور پوچھے جاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایمانداری سے بتائیں تو ماضی میں پاکستان کے اندر ممنوع سمجھے جانے والے شاندار موضوعات پر ڈرامے بنانا آسان تھا اور ملک میں انتہائی اچھے ڈرامے بھی بنے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سال 2000 کے اختتام تک ڈراموں میں اچھی طرح تاریخ، سماج، کرداروں اور مسائل کو اجاگر کیا جا رہا تھا۔




















