پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی اداکارہ ثمن انصاری کا کہنا ہے کہ میری شادی کیلئے مسجد میں اعلان کیا گیا۔
حال ہی میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی اداکارہ ثمن انصاری نے مزاحیہ اداکار و میزبان احمد علی بٹ کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے نجی زندگی کے حوالے سے گفتگو کی۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں کم عمری میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کینیڈا گئی، جہاں نانا نانی نے فیصلہ کیا کہ بچی آئی ہوئی ہے تو کیوں نہ اس کی شادی کروا دی جائے، جس پر گھر والے راضی ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ نانا نانی نے مسجد میں اعلان کروایا کہ لڑکی آئی ہوئی ہے پڑھنے کے لیے اور شادی کے لیے دستیاب ہے، شادی کے خواہش مند افراد رابطہ کریں، اس زمانے میں موبائل فون یا واٹس ایپ نہیں ہوا کرتے تھے، کینیڈا سمیت دیگر ممالک میں کمیونٹی سسٹم کے تحت اسی طرح شادیوں کے پیغامات بھیجے جاتے تھے۔
اداکارہ نے بتایا کہ پہلے شوہر کو منگنی والے دن پہلی بار دیکھا تھا، شادی کے بعد امریکا چلی گئی، لیکن شادی اور پڑھائی کے دوران کبھی امریکا تو کبھی کینیڈا آنا جانا لگا رہا، کیونکہ شوہر کی ملازمت کبھی امریکا میں تو کبھی کینیڈا میں رہی۔
ثمن انصاری نے بتایا کہ شادی کے بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی، بیٹا جب 6 سال کا تھا تو طلاق ہو گئی، شادی کے 16 سال بعد طلاق ہوئی تو والدین کی اجازت سے پاکستان آنے کی بجائے دبئی جانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر ملک کا طلاق کے حوالے سے اپنا ایک قانون ہوتا ہے اور وہاں کے قانون کے مطابق بچے کی تعلیم ان ہی اسکولوں میں برقرار رہے گی جہاں وہ زیرِ تعلیم ہے، اسے وہی ماحول ملے گا جس کا وہ عادی ہے اس لیے بیٹے نے زیادہ تر وقت اپنے والد کے ساتھ گزارا۔
اداکارہ نے کہا کہ طلاق کے فوری بعد بیٹے کو وہاں چھوڑ کر اگر پاکستان آ جاتی تو لوگ والدین کو طعنے دیتے کہ بیٹی نے طلاق لے لی، پھر بیٹے کو بھی چھوڑ کر آ گئی کیسی ماں ہے، اس لیے دبئی میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔




















