پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف و سینئر اداکار بہروز سبزواری نے کہا ہے کہ مجھ میں 14 سال کی عمر میں اسٹار بننے کی وجہ سے مغروری آگئی تھی۔
حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں معروف و سینئر اداکار بہروز سبزواری نے بتایا کہ ان کی آنے والی میگا کاسٹ فلم ’نیلوفر‘ کی شوٹنگ پانچ سال قبل 2019 کے اختتام پر ہی مکمل کرلی گئی تھی لیکن وہ تاحال ریلیز نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ مذکورہ فلم میں طویل عرصے بعد ایک بار پھر فواد اور ماہرہ خان کے ساتھ کام کرتے دکھائی دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماہرہ اور فواد خان جس طرح ہمسفر ڈرامے کے وقت محبت کرنے اور عزت دینے والے ہوتے تھے، اسی طرح آج بھی وہ ویسے ہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں بہروز سبزواری نے کہا کہ بہت سارے نوجوان اداکار بہت اچھی شخصیت کے مالک ہیں، وہ محنت کرکے اپنا مقام بھی بنا رہے ہیں لیکن اس باوجود بہت سارے نئے اداکار ایسے ہیں، جنہیں کام سے کوئی مطلب نہیں، ان کا مقصد شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ بہت سارے نوجوان اداکار محنت کے بغیر ہی شہرت حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور وہ اپنے سینیئرز تک کی عزت نہیں کرتے کیونکہ ان کا مقصد ہی صرف شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ 50 سال قبل محض 14 سال کی عمر میں ہی اسٹار بن گئے تھے، جس وجہ سے ان میں کم عمری میں ہی مغروری آگئی تھی جس کا انہیں نقصان بھی ہوا لیکن جلد ہی انہوں نے خود کو سنبھالا اور تکبر چھوڑ کر نیاز مندی اختیار کرلی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدا کی بستی نامی ڈرامے سے راتوں و رات شہرت مل گئی تھی، تب صرف ایک ہی اسکرین ہوتا تھا اور اس وقت شہرت حاصل کرنا مشکل ہوتا تھا لیکن اس باوجود انہیں مقبولیت ملی۔
بہروز سبزواری نے کہا کہ انہوں نے بھی 10 سال کی عمر میں اداکاری شروع کی جبکہ ان کے بیٹے شہروز سبزواری نے بھی 10 سال کی عمر میں اداکاری کا آغاز کیا۔
اداکار کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بیٹے شوبز انڈسٹری کو ان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، وہ پوری دنیا کے اداکاروں سے متعلق معلومات رکھتے ہیں جبکہ کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ فٹنیس پر بھی توجہ دیتے ہیں۔




















