Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اپنی خالہ کے انتقال کی خبر سن کر سکون ملا تھا، اداکارہ فریال محمود

پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف ماڈل و اداکارہ فریال محمود نے کہا ہے کہ اپنی خالہ کے انتقال کی خبر سن کر سکون ملا تھا۔

حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں معروف ماڈل و اداکارہ فریال محمود نے کہا کہ روحی بانو ان کی والدہ کی سگی کزن تھیں، اس طرح سے وہ ان کی خالہ ہوئیں اور ان کے درمیان اچھے خاندانی تعلقات رہے۔

انہوں نے کہا کہ والدہ نے انہیں بتایا کہ روحی بانو جوانی میں ہی دماغی عارضے ’شیزو فرینیا‘ کا شکار تھیں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ان کا عارضہ بھی بڑھتا چلا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جوانی میں بھی روحی بانو اپنے دماغی عارضے کی وجہ سے مسائل کا شکار تھیں، انہیں لباس پہننے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتی تھیں، وہ شلوار اور قمیض ایک جیسی نہیں پہن سکتی تھیں۔

فریال محمود نے کہا کہ روحی بانو نے نفسیات کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی لیکن اس باوجو وہ اپنے دماغی عارضے ’شیزو فرینیا‘ کو سمجھ نہیں پائیں اور ان کی بیماری گزرتے وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتی گئی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ روحی بانو کو بیماری کے علاوہ بھی دیگر تکالیف پہنچیں، ان کے اکلوتے بیٹے علی کو جائیداد کی خاطر قتل کیا گیا، جس نے اداکارہ کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک روحی بانو کے بیٹے زندہ تھے، وہ ان کا اچھی طرح خیال رکھتے تھے، بیٹے کے قتل کے بعد وہ مزید بیمار ہوگئیں اور انہیں جب اسپتال داخل کرایا جاتا تو وہ وہاں سے بھاگ کر گھر آجاتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روحی بانو کو زندگی کے آخری ایام تک یہ خوف رہا کہ ان کے گھر پر قبضہ کرلیا جائے گا، اس لیے وہ علاج کی خاطر پر ہسپتال میں نہیں رکتی تھیں۔

فریال محمود نے کہا کہ زندگی کے آخری ایام میں روحی بانو ترکیہ میں موجود اپنی بہن کے پاس چلی گئی تھیں، جہاں ان کا انتقال ہوا اور ان کی موت کی خبر سن کر انہیں سکون ملا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ روحی بانو تکلیف دہ زندگی گزار رہی تھیں، اس لیے ان کی موت کا سن کر انہیں بھی سکون ملا کہ اب وہ بہتر جگہ پر ہوں گی۔

واضح رہے کہ ماضی کی مقبول اداکارہ روحی بانو زندگی کے آخری سال میں شدید علالت کے بعد 2019 میں ترکیہ میں انتقال کر گئی تھیں۔