خواتین کی بڑی تعداد جلد کی صحت وصفائی کا خیال رکھتی ہیں تاہم کبھی کبھار یہ جلد کی دیکھ بھال کے ساتھ اس سے جڑی اشیاء کی صفائی بھی خاص اہمیت رکھتی ان ہی میں تکیہ اور اس کا خلاف شامل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ تکیہ کی ساخت اور اس کی جسمات مناسب نہ ہو تو یہ گردن میں درد کا سبب بن سکتا ہے اسی طرح اس کا غلاف صاف نہ ہو تو یہ آپ کی جلد کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ماہرین جلد ان چند وجوہات کی بنا پر تکیے کے غلاف کو ہفتہ وار تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو آپ کی جلد کے لیے طویل مدت میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا، اسے اپنی رات کی جلد کی دیکھ بھال کے معمول کا حصہ بنائیں۔
تکیہ جلد سے براہ راست منسلک ہوتا ہے
یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ تکیہ آپ جلد سے سب سے قریب ہوتا ہے لہذا تکیہ پر تیل، گندگی اور روزمرہ کے استعمال سے پسینہ جمع ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ اس پر مختلف بیکٹیریا پیدا ہوسکتے ہیں۔ جو جلد پر مہاسوں اور ایکنی کا سبب بن سکتا ہے۔
سب ہی نائٹ سکن کیئر کا خاص خیال رکھتے ہیں تو اس طرح جو بھی سیرم، کریم اور لوشن آپ لگاتے ہیں وہ تکیے پر منتقل ہو جاتے ہیں اس طرح جلد کے مسائل صرف تکیے سے ہی جنم لے سکتے ہیں۔
فیبرک نرم کرنے والے کیمیکلز سے گریز کریں
اکثر خواتین کپڑوں کو نرم کرنے کے لیے کچھ کیمیکلز کا استعمال کرتی ہیں جو جلد کونقصان پہنچا سکتے ہیں یہ آپ کے مسامات کے ذریعے جلد میں داخل ہوکر دانوں اور ریشیز کا باعث بن سکتے ہیں۔
تکیہ کے غلاف کے فیبرک کا خیال رکھیں
جلد کی نمی اور کپڑے کی فیبرکس کی درمیان ایک خاص تعلق پایا جاتا ہے۔ اگرآپ سونے کے لیے جو تکیہ استعمال کرتے ہیں اس پر اگر سوتی غلاف موجود ہے تو دوران نیند رات بھر یہ آپ کے بالوں اور جلد کی نمی کو جذب کر سکتاہے جبکہ یہ کمزور بالوں کے ٹوٹنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے تکیے کا غلاف ہمیشہ ریشم جیسے ہلکے کپڑے کا بنائیں جو بالوں اور جلد دونوں کے لیے صحت مند ہیں۔
دھول کے ذرات بھی پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں
گندگی اور تیل کی طرح، دھول کے ذرات یا بیڈ بگز بھی وقت کے ساتھ آپ کے تکیوں میں جمع ہو سکتے ہیں۔ اپنے تکیے کو باقاعدگی سے دھونے کے علاوہ، دو تکیوں کے درمیان صاف کپڑے کا استعمال ایک محافظ ثابت ہوگا۔
تکیے پر موجود جراثیم قوت مدافعت کو متاثر کر سکتے ہیں
کچھ ماہرین کے مطابق، تکیے پر موجود جراثیم آپ کے مدافعتی نظام کو کم کر سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ تکیے پر ریشم کا غلاف استعمال کریں کیونکہ ریشم پر بیکٹیریا نمو نہیں پاسکتے ۔




















