امریکا: سائنسدانوں نے جلد سے ملتاجلتا نرم، لچکدار اورہوا گزرنے والا ایک ایسا مواد تیار کیا ہے جسے صحت کی نگرانی کے لیے بائیو الیکٹرانک ڈیوائس میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں مختلف امراض جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور امراض قلب بڑھتے جارہیں ہیں اوران امرض میں مبتلا مریضوں میں صحت کی نگرانی کے لیے مختلف الیکٹرانک ڈیوائسزاستعمال کی جاتی تاکہ کسی بھی ممکنہ صورت کا فوری پتالگاکرمریض کا بروقت علاج کیا جاسکے۔
صحت کی نگرانی کرنے والی ان ڈیوائسزمیں ایسے مٹیریل کا استعمال کیاجاتا ہے جو بھاری ہونے کے ساتھ غیر لچکدار ہوتی ہیں جو نہ صرف مریض کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہے بلکہ ان سے حاصل کی جانے والی ریڈنگ بھی درست نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: جلد کے لیے اسپغول کے ان فوائد سے واقف ہیں
تاہم یہ نیا مواد ایسے آلات کے لیے بہترین مواد ثابت ہوسکتا ہے جو متعدد اہم علامات جیسے بلڈ پریشر، برقی دل کی سرگرمی، اور جلد کی ہائیڈریشن کو نوٹ کرتے ہیں۔
زینگ یان جو کہ میسوری یونیورسٹی میں مکینیکل اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کا شعبہ کیمیکل اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسرہیں کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد اس بنیادی اورمحفوظ مواد کی اختراع کے ذریعے طویل مدتی بائیو کمپیٹیبلٹی اور پہننے کے قابل بائیو الیکٹرانکس کی دیرپا درستگی کو بہتر بنانے میں مدد کرنا ہے۔
اس مواد کی تیاری میں مائع دھاتی ایلسٹومر مرکب کو استعمال کیا گیا ہے جبکہ اس سب اہم خصوصیت اس کا جلد کی طرح نرم ہونا ہے۔
یان کا مزید یہ کہنا ہے کہ یہ انتہائی نرم اور بےحد لچکدار ہے اس لیے جب ڈیوائس کو انسانی جسم پر پہنا جائے گا، تومیکانکی طور پر صارف کو محسوس ہی نہیں ہوگا کہ اس نے کوئی ڈیوائس پہنی ہوئی ہے یہاں تک آپ شاید اس کے بارے میں بھول جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب لوگ ان کی جلد پر کوئی چیز کھینچی جاتی ہے تو تقریباً 20 کلوپاسکلز یا اس سے زیادہ دباؤ محسوس کر سکتے ہیں، اور یہ مواد اس سے کم دباؤ پیدا کرتا ہے۔
اس کی مربوط اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل خصوصیات طویل استعمال کے دوران نقصان دہ جراثیم کو آلے کے نیچے جلد کی سطح پر بننے سے روکنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔
یان کہتے ہیں، ہم اسے مکینیکل اور الیکٹریکل ڈیکپلنگ کہتے ہیں، لہذا جب مواد کو پھیلایا جاتا ہے، تو انسانی حرکت کے دوران برقی کارکردگی میں صرف ایک چھوٹی سی تبدیلی ہوتی ہے، اور یہ آلہ انسانی جسم سے اعلیٰ معیار کے حیاتیاتی سگنلز کودرستگی کے ساتھ ریکارڈ کر سکتا ہے۔
جبکہ ڈیوائس کے ذریعے جمع کیے گئے حیاتیاتی ڈیٹا کو وائرلیس طور پر اسمارٹ فون یا اسی طرح کے الیکٹرانکس ڈیوائس میں طبی پیشہ ور افراد کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے منتقل کیا جا سکتا ہے۔
سائنس ایڈوانسز کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کو نیشنل سائنس فاؤنڈیشن، آفس آف نیول ریسرچ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جنرل میڈیکل سائنسز، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف آرتھرائٹس اینڈ مسکولوسکیلیٹل اینڈ اسکن ڈیزیز، اور ایئر فورس آفس کا تعاون حاصل رہا ہے۔




















