نوزائیدہ بچوں میں سماعت کی کمی یا محرومی سے بچانے کے لیے ماہرین صحت نے ایک ایسا ٹیسٹ معتارف کرایا ہےجو بچوں کے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نوزائیدہ بچوں کا امنیاتی نظام کمزور ہوتا ہے اس لیے وہ مختلف بیکٹیریل انفکشنزمیں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کے لیے انہیں جینٹا مائسین نامی اینٹی بایوٹک دی جاتی ہیں جوبیکٹیریل انفیکشن کو دور کر کے صحت بحال کرتی ہے اور اکثریت کے لیے محفوظ تصور کی جاتی ہے۔
اس دوا کا ایک غیر معمولی ضمنی اثر ہے۔ انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً 1250 بچے اپنے جینیاتی کوڈ میں ایک لطیف تبدیلی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جو اینٹی بائیوٹک کو ان کے کانوں کے بالوں کے خلیوں سے منسلک کر دیتے ہیں جہاں یہ دوا نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
یہ چھوٹے بال آوازوں کو برقی سگنلز میں تبدیل کرنے میں مدد کرتے ہیں جو دماغ کے ذریعے سمجھے جاتے ہیں۔ اگر انہیں نقصان پہنچتا ہے، تو اس کے نتیجے میں سماعت کی کمی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ بچوں میں اس دوا کا استعمال کان کے اندر موجود حسی خلیوں کے نقصان کا باعث بنتا جس کی وجہ سے سماعت مستقل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔
اس دوا کا ضمنی اثر سب کو معلوم تھا، لیکن اب تک کوئی ایسا ٹیسٹ نہیں تھا جس کے نتائج تیزی سے مل سکیں۔
تاہم یہ نیا انتہائی تیز رفتار ٹیسٹ نوزائیدہ بچوں کی سماعت کو محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ٹیسٹ نیشنل ہیلتھ سروس کے اسپتالوں میں استعمال کیا جائے۔
اس ٹیسٹ میں نوزائیدہ بچوں کے ڈی این اے کا تجزیہ کر کے ان کے کمزور ہونے کا پتا لگا یا جاسکتا ہے۔ اس طرح کمزور بچوں کو ایک مختلف قسم کی اینٹی بائیوٹک دی جا سکے گی اس طرح اس ٹیسٹ کی بدولت بچے زندگی بھر سماعت کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔
اس ٹیسٹ میں نئی جینڈرائیو کٹ بچے کے گال کے اندر سے لیے گئے نمونے کا تجزیہ کرتی ہے۔ اور محض 26 منٹ میں سماعت سے محروم ہونے کے لئے حساس شخص کو پہچان سکتا ہے۔ اس طرح علاج میں تاخیر نہیں ہوتی۔
این ایچ ایس کے عملے کے لیے یہ ٹیسٹ دستیاب ہونے سے ایسے بچوں میں سماعت کے نقصان کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے جن کو اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیشنل ڈیف چلڈرن سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو سوزن ڈینیئلز کا کہنا ہے کہ یہ بہت حوصلہ افزا ہے جبکہ اس اہم پیش رفت پر مزید شواہد اکٹھے کیے جائیں گے۔
ساتھ وہ مستقبل کے لیے پر امید ہیں یہ اضافی ثبوت ٹیکنالوجی کے رول آؤٹ کی دلیل کی حمایت کرے گا جو مستقبل میں بچوں میں سماعت سے محرومی سے روکنے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔




















