ایسٹروجن ایک قسم کا ہارمون ہے جو خواتین کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی اور زیادتی دونوں ہی صحت کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔
ایسٹروجن جسے خواتین کا ہارمون بھی کہاجاتا ہے یہ خواتین میں جنسی اور تولیدی نشوونما اور اس کی صحت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے یوٹرس ایسٹروجن کی پیدارکا بنیادی ماخذ ہے تاہم ایڈرینل غدود اور چربی کے خلیے بھی ایسٹروجن کی تھوڑی مقدار بناتے ہیں۔
ایسٹروجن میٹابولزم اور ہڈیوں کی کثافت کو بھی متاثرکرتا ہے جب ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کا تناسب غیر متوازن ہو تو ایسی صورت میں ایسٹروجن کی سطح بڑھنے لگتی ہے جو خواتین میں کینسر، اینڈومیٹرائیوسس، اور پولی سسٹک اوورین سنڈروم کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔
ساتھ ہی یہ خواتین میں بالوں کے گرنے اور درد شقیقہ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہاں جسم میں ایسٹروجن کی سطح کو کم کرنے کے لیے ماہرین کچھ غذاؤں سے پرہیز کیا مشورہ دیتے ہیں تاکہ جسم میں اس اہم ہارمون کی سطح کو توازن میں رکھا جاسکے۔
سرخ اور پراسیس شدہ گوشت
اس قسم کے گوشت کا استعمال خاص طور پر خواتین میں ایسٹروجن کی سطح میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خواتین میں چھاتی کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھا دیتا ہے۔
اس کے بجائے پودوں پر مبنی غذا کا انتخاب کریں، کیونکہ وہ ایسٹروجن کی سطح کو منظم کرنے میں کافی مؤثر ثابت ہوتی ہیں، تاہم ماہرین پھلیاں اور سویا کی مقدار کو کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں فائٹوسٹروجن سے بھرپورہوتی ہیں۔
ریفائنڈ شوگراور کاربوہائیڈریٹس
یہ دونوں ہی عام طور پر صحت کے لیے مضر تصور کی جاتی ہیں یہ ہمیشہ ہی پیک اور پراسیس شدہ کھانوں میں بھی موجود ہوتے ہیں، جو خون میں شکر اور ہارمون کی سطح میں خلل کا باعث بنتے ہیں۔ جسم میں ایسٹروجن کی مقدار کو کم کرنے کے لیے مکمل اناج اور فائبر سے بھرپور دیگر غذاؤں کا انتخاب کریں۔
ڈیری مصنوعات
دودھ جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے جس میں ایسٹروجن کے اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ہارمون کی سطح کو منظم کرنے کے لیے دودھ اور اس سے تیار مصنوعات کا استعمال محدود رکھیں۔ کچھ لوگوں کے لیے دودھ کی مصنوعات اور سرخ گوشت وزن میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔ ڈاکٹر اکثرزائد ایسٹروجن والے مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ باقاعدگی سے ورزش کریں اور غذائی عادات میں تبدیلی لاکروزن کم کریں۔
میٹھی غذائیں
چینی کی مقدار میں اضافہ جسم میں چربی کے خلیات کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے، جو جسم میں ایسٹروجن کے اخراج کو بڑھاتا ہے۔ یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے زائد ایسٹروجن والے افراد کے لیے کم چکنائی والی خوراک کی سفارش کی جاتی ہے۔ مزید برآں، مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ انسولین کی اعلی سطح جسم میں ایسٹروجن کے ساتھ ساتھ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو بھی بڑھا سکتی ہے، جو مزید پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔
کافی
کافی ایک ایسا مشروب ہے جس میں کیفین موجود ہوتا ہے ماہرین کافی کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ کیفین کا زیادہ استعمال ہارمونل عدم توازن کا سبب بنتا ہے۔
ان غذائی پرہیز کے ساتھ بہت سے دوسرے عوامل جیسے تناؤ اور طرز زندگی بھی ایسٹروجن کو بڑھانے میں اہم کردارادا کرتے ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔




















