دنیا بھر میں فالج یا اسٹروک کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ میں غیر متوازن غذا کا استعمال، نشہ، غیر معیاری نیند اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔
فلج کا حملہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کو خون کی فراہمی کم یا اس میں خلل پیدا ہونے کے سبب دماغ غذائی اجزاء اور آکسیجن سے محروم ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں دماغی خلیات مردہ ہونے لگتے ہیں۔
تاہم فالج کو دو اقسام ہیں ان میں سے ایک بلڈ کلوٹ کی وجہ سے شریانوں کے بند ہونے جسے (اسکیمک اسٹروک) کہا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم کا فالج خون کی شریان کے پھٹنے یا رسنے جسے (ہیموریجک اسٹروک) کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔
اسی طرح کچھ افراد اپنے دماغ میں خون کے بہاؤ میں عارضی رکاوٹ کی بنا پر بھی فالج کا سامنا کر سکتے ہیں جسے عارضی “اسکیمک اٹیک” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فالج کا خطرہ کس عمر میں دُگنا ہوجاتا ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
فالج کے نتیجے میں کچھ واضح علامات سامنے آتی ہیں جن کا جاننا آپ کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ آپ ان علامات کو جان کر فوری قدم اٹھا سکیں اور انسانی جان کو بچایا جاسکے۔
فالج کی نشانیاں
کبھی کبھی فالج قدرے آہستہ اور ہلکی رفتار سے آگے بڑھتا ہے جس کی علامات اتنی واضح نہیں ہوتی تاہم ایک ایسا فالج جو اچانک ہو تو اس کی کئی واضح علامات سامنے آتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں۔
اچانک جسم کا بے حس ہوجانا جیسے بازو، چہرے یا پیروں کی کمزوری، خاص طور پر جسم کے ایک طرف یعنی آدھے حصے کی جانب۔
اچانک کنفیوژن پیدا ہوجانا، بولنے یا سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا۔
دیکھنے میں ایک یا دونوں آنکھوں سے دشواری پیش آنا۔
یہ بھی پڑھیں: غصے کی کیفیت بھی فالج کی وجہ بن سکتی ہے
چلنے میں اچانک پریشانی کا سامنا کرنا، توازن کا برقرار نہ رکھ سکنا اور چکر آنا۔
سر میں کسی وجہ کے بغیر اچانک شدید درد ہونا۔
فالج سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
فالج کو جتنا جلد پکڑ لیا جائے اتنا ہی اس کا علاج زیادہ مؤثر طریقے سے کیا جاسکتا ہے اور دماغ کو ہونے والا نقصان اتنا ہی کم ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ چند ایک نشانیاں کسی بھی فرد میں دیکھیں یا خود اپنے اندر محسوس کریں تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
یہ بھی پڑھیں: فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاؤ اب ممکن




















