Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مایونیز کے ان مضر صحت اثرات سے واقف ہیں؟

مایونیز سلاد اور سینڈوچ کو ایک نیا ذائقہ اوراندازدیتاہے جبکہ اسے برگر کا لازمی جز تصور کیاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بچے ہویا بڑے سب ہی اسے شوق سے کھاتے ہیں تاہم کیا یہ صحت کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا اسے کثرت سے استعمال کیاجاتا ہے؟

 یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ مایونیز انڈے، تیل اور سرکہ سے تیار کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسے زیادہ دن تک تازہ رکھنے کے لیے اس میں مختلف کیمیکلز بھی ملائیں جاتے ہیں۔ اگر آپ بھی اسے شوق سے کھاتے ہیں تو آج اس کے نقصان جان لیں۔

بلڈ شوگر میں اضافہ

مایونیز کا زیادہ استعمال خون میں شوگر کی سطح کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ اگر آپ اسے روزانہ استعمال کرتے ہیں تواس طرح ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب ذیابیطس کے مریضوں کو مایونیز کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

بلڈ پریشر

مایونیز کا زائد استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ دراصل مایونیز میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو بلڈ پریشر کو بڑھا کر ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔

امراض قلب

مایونیز چونکہ انڈا اور تیل پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے اس کا زائد استعمال دل کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک چمچ مایونیز میں تقریباً 1.6 گرام حل پذیرچکنائی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر آپ مایونیز زیادہ کھاتے ہیں تو اس سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے۔ جسم میں ہائی کولیسٹرول دل کی بیماری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

وزن میں اضافہ

مایونیز کا زیادہ استعمال آپ کے وزن میں تیزی سے اضافہ کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس میں کیلوریز بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی اس میں چکنائی کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مایونیز زیادہ کھانے سے آپ موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جبکہ یہ پیٹ کی چربی کو بھی تیزی سے بڑھاسکتا ہے۔

سردرد

بازار میں دستیاب مایونیز میں پرزرویٹیو اور مصنوعی اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں، جو صحت کے لیے انتہائی مضر ہوتے ہیں مایونیز زیادہ کھانے سے بہت سے لوگوں کو سر درد، کمزوری اور متلی جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔