آج ہم آپکو بتائیں گے کہ کیا واقعی تناؤ کے شکار رہنے سے بال جوانی میں ہی سفید ہو جاتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق دائمی تناؤ کے شکار رہنے والے افراد میں بالوں کی سفیدی کا عمل تیز رفتار ہو جاتا ہے مگر اس حوالے سے جینز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہارمونز کا عدم توازن، خون کی کمی، تھائی رائیڈ کے مسائل اور کم خوراکی سے بھی بالوں کی رنگت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق تناؤ کے شکار رہنے سے بالوں کی رنگت برقرار رکھنے والے خلیات melanocytes کی تعداد گھٹ جاتی ہے۔
یہ وہ خلیات ہوتے ہیں جو بالوں کی جڑوں میں زندہ رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹریس کو دور کرنے کے 8 ایسے انوکھے طریقے جن سے آپ واقف نہیں
محققین کا کہنا ہے کہ بالوں کی جڑوں میں موجود ان خلیات پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جو نئے بالوں کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں اور بتدریج خلیات نیا رنگ بنانا چھوڑ دیتے ہیں جس کے بعد بالوں کی رنگت سفید ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
واضح رہے کہ اس تحقیق کے نتائج کا اطلاق مکمل طور پر انسانوں پر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس میں چوہوں کو شامل کیا گیا تھا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تناؤ کے نتیجے میں انسانوں کے بال قبل از وقت سفید ہونے لگتے ہیں البتہ یہ تبدیلی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی لیکن عندیہ ملتا ہے کہ ذہنی تناؤ اور بالوں کی سفیدی کے درمیان تعلق موجود ہے۔




















