اکثر لوگوں کو دوپہر کے کھانے کے بعد غنودگی محسوس ہوتی ہے اگر آپ کو بھی اس کا سامنا ہے تو چند آسان طریقوں سے اس سستی یا غنودگی کو دور کرنا ممکن ہے۔
آج ہم آپ کو ایسے ہی طریقوں کے بارے میں بتائیں گے جن کے ذریعے آپ دوپہر کو کھانے کے بعد ہونے والی سستی اور غنودگی سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔
چہل قدمی
کورٹیسول نامی ہارمون کی سطح دن بھر میں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے جس کے باعث لوگوں کو دوپہر یا سہ پہر کو غنودگی کا احساس ہوتا ہے۔
چہل قدمی سے خون کی روانی بڑھتی ہے، درحقیقت عمارت کے اندر چند منٹ چلنے سے جسم میں توانائی کی نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔
میٹھے سے گریز کریں
چینی کے استعمال سے جسمانی توانائی میں فوری اضافہ ہوتا ہے مگر بہت جلد بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے جس سے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔
اچھا ناشتہ
کیا آپ صبح کی غذا کی کم مقدار کھاتے ہیں یا کھاتے ہی نہیں؟ اگر ایسا کرتے ہیں تو اس سے جسم اہم غذائی اجزا سے محروم ہوجاتا ہے۔
ایسا کرنے سے دوپہر کے کھانے میں آپ زیادہ کھا لیتے ہیں جس سے بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے تھکاوٹ بڑھتی ہے اور چند گھنٹے بعد بھوک بھی لگتی ہے۔
چیونگم
چیونگم چبانے کے لیے جبڑوں کو حرکت دینا ہوتی ہے جس سے دھڑکن کی رفتار بھی بڑھتی ہے اور دماغ کے لیے خون کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جسم غنودگی سے باہر نکل آتا ہے اور آپ خود کو زیادہ چست محسوس کرنے لگتے ہیں۔
کھڑکی کے پردے ہٹا دیں
اگر دفتری امور کے دوران تھکاوٹ یا غنودگی محسوس ہو رہی ہے تو سورج کی تیز روشنی یا خصوصی لیمپ سے یہ احساس دور بھگایا جاسکتا ہے۔
کام سے وقفہ
تھکاوٹ کے ذریعے جسم کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کچھ آرام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام سے چند منٹ کا وقفہ ہوسکتا ہے۔
جب آپ جسم اور ذہن کو کام سے دور رکھتے ہیں تو اس سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر ہوجاتی ہے۔
کچھ وقت کا قیلولہ
ویسے تو دفتر میں ایسا ممکن نہیں ہوتا تاہم ممکن ہو تو دوپہر 3 بجے سے پہلے، 15 منٹ کی نیند سے غنودگی اور سستی کو دور رکھنا آسان ہوتا ہے جبکہ رات کی نیند بھی متاثر نہیں ہوتی۔




















