ہر فرد ہی باتیں بھولتا ہے مگر جب ایسا اکثر ہونے لگے تو پھر یہ یادداشت کمزور ہونے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ایجنگ کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ یادداشت کمزور ہونا یا بھلکڑ ہونا غیرمعمولی نہیں ہوتا، مگر کچھ عادات اور عناصر سے ہر عمر کے افراد کی یادداشت متاثر ہوسکتی ہے۔
ناکافی نیند
ناکافی نیند کے نتیجے میں آپ کی نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت 40 فیصد گھٹ سکتی ہے اور دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوسکتا ہے جو یادوں کو بنانے کا کام کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نیند سے یادیں منظم ہوتی ہیں، جس سے طویل المعیاد بنیادوں پر یادداشت بہتر ہوتی ہے۔
ملٹی ٹاسکنگ
ایک وقت میں کئی کام کرنا کسی ایک پہلو پر مکمل توجہ مرکوز نہیں کرنے دیتا، جس کے باعث لوگ چیزیں بھولنے لگتے ہیں۔ لہٰذا ایک وقت میں ایک ہی کام کریں۔
جسمانی طور پر متحرک نہ رہنا
ورزش سے دماغ کے لیے خون کی روانی بڑھتی ہے اور دماغی خلیات کو تحفظ بھی ملتا ہے، اس کے برعکس زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ان دماغی حصوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جو یادداشت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
مخصوص ادویات کا استعمال
ادویات جیسے سکون آور دوائیں، الرجی کی ادویات، بلڈ پریشر اور چند دیگر امراض کی ادویات یادداشت متاثر کرسکتی ہیں جس کی وجہ ان ادویات کی مسکن خصوصیات ہیں۔
تمباکو نوشی
تمباکو نوشی سے دماغی خلیات کو نقصان پہنچتا ہے اور نئے خلیات بننے کا عمل تھم جاتا ہے جس سے لوگ بھلکڑ بننے لگتے ہیں۔
مخصوص غذاؤں سے دوری
غذا ہمارے دماغ پر اثرات مرتب کرتی ہے، اگر کوئی فرد سبز پتوں والی سبزیاں، مچھلی، بیریز، چائے، کافی اور اخروٹ کو اپنی غذا کا حصہ نہ بنائیں تو اس سے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
کسی قسم کی دماغی بیماری
کسی قسم کا صدمہ یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے کیونکہ اعصابی نظام جسم کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اس عمل کے دوران لوگ عام باتیں بھولنے لگتے ہیں۔




















