Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا واٹر فاسٹنگ سے وزن کم کرنا ممکن ہے، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

صحت مند رہنے کے لیے جہاں متوازن غذا ضروری ہے وہی صحت مند وزن کو برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ وزن بڑھنے کے ساتھ کئی امراض جنم لینے لگتے ہیں اسی لیے لوگوں کی بڑی تعداد وزن کم کرنے کے لیے مختلف طریقے اپناتی ہے۔

یہ بات توسب ہی جانتے ہیں کہ دنیا کی بڑی آبادی موٹاپے اور بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنے کے لیے کئی طرح کے جتن کرتی ہے تاہم وزن کم نہیں ہوپاتا لیکن ماہرین کے مطابق اگر پانی کا روزہ رکھا جائے  تو وزن تیزی سے کم کیاجاسکتا ہے۔

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانی کا روزہ جسے واٹر فاسٹنگ بھی کہاجاتا ہے وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے لیکن اس کے فوائد جلد ختم ہوجاتے ہیں۔ تاہم ماہر ین اس ضمن میں کیا کہتے جانتے ہیں۔

تصور کریں کہ آپ دن میں کھانا کھانے کے بجائے صرف پانی پیتے ہیں، حقیقت میں ایسا کرنا ایک ناممکن سی بات لگتی ہے خاص طور پر خوش خوراک افراد کے لیے، تاہم فی زمانہ پانی کا روزہ رکھنا ایک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ پانی کے روزے کو وزن کم کرنے کا تیز اور سب آسان طریقہ سمجھتے ہیں۔ شکاگو کی یونیورسٹی آف الینوائے کی ایک حالیہ تحقیق جو نیوٹریشن ریویو میں شائع ہوئی ہے کے مطابق پانی کا روزہ رکھنے سے وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آپ کب تک اس کے فوائد سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ پانی کا روزہ صحت کے دیگر فوائد بھی رکھتا ہے تاہم اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہیں۔

پانی کا روزہ  یعنی واٹر فاسٹنگ کیا ہے؟

وزن کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ان میں ورزش کرنا، غذائی کیلوریز میں کمی کرنا اور پانی کا روزہ رکھنا  شامل ہے۔

روزے کا بنیادی مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ  کسی بھی کھانے پینے کا انتخاب نہ کرنا یا تمام کھانے اور مشروبات سے پرہیز کرنا۔ وجوہات صحت، روحانیت یا ذاتی عقائد سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ پانی کے روزے سے مراد یہ ہے کہ مقررہ وقت تک بغیر کسی غذا کے صرف پانی پینا ہے۔

واٹر فاسٹنگ کے کیا فائدے ہیں؟

اس روزے کے دوران ہونے والی سب سے نمایاں تبدیلی وزن میں کمی ہے۔ جب آپ غذا سے دور رہتے ہیں اور ایک خاص مدت تک کھانے سے پرہیز کرتے ہیں، تو آپ قدرتی طور پر کم کیلوریز کھاتے ہیں۔ یہ وقت کے ساتھ وزن میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہر بتاتے ہیں کہ چونکہ جسم کو بیرونی ذرائع سے کوئی کیلوریز نہیں ملتی اس لیے وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے ذخیرہ شدہ توانائی کے ذخائر جیسے گلیکوجن (ذخیرہ شدہ کاربوہائیڈریٹس) اور چربی کا استعمال شروع کر دیتا ہے۔ لہذا، اس طرح پانی کے روزے کے دوران وزن میں کمی ہونے لگتی ہے۔

جب جسم اپنے گلائکوجن کے ذخیروں کو ختم کر دیتا ہے، تو یہ چربی کے خلیوں کو ایک عمل کے ذریعے توڑنا شروع کر دیتا ہے جسے لیپولائسز کہتے ہیں۔ یہ فیٹی ایسڈ جسم میں ایندھن کے لئے توانائی میں تبدیل ہوجاتا ہے نتیجتاً، پانی کا روزہ وزن میں کمی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جسم زیادہ تر روزے کے دوران توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ چربی پر انحصار کرتا ہے۔

پانی کے روزے کے جسم پر مضر اثرات

جب آپ یہ روزہ رکھتے ہیں، تو خاص طور پر طویل مدت کے لیے، اگر آپ مناسب مقدار میں پانی استعمال نہیں کرتے ہیں تو آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ مختلف جسمانی افعال کے لیے مناسب ہائیڈریشن بہت ضروری ہے، بشمول عمل انہضام، خون کی گردش، اور درجہ حرارت کو توازن میں رکھنا، لہذا، روزانہ 2 سے 3 لیٹر پانی پئیں، مناسب مقدار میں پانی کا استعمال ہائیڈریشن کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے اور مجموعی جسمانی افعال کو بہتر بناتا ہے۔ بہتر ہائیڈریٹ رہنے سے، آپ بھوک کے احساس کی شدت کو کم کر سکتے ہیں، جس سے آپ کے لیے روزہ رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس روزے کے چند مضر اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں جو یہاں پر پیش کیے جارہے ہیں۔

الیکٹرولائٹ کا عدم توازن

جب آپ واٹر فاسٹنگ شروع کرتے ہیں، تو ضروری معدنیات کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس میں پوٹاشیم اور سوڈیم شامل ہیں، جو کہ مختلف جسمانی افعال کے لیے اہم الیکٹرولائٹس ہیں۔ ماہر کا کہنا ہے کہ الیکٹرولائٹ کی مناسب تبدیلی یا طبی نگرانی کے بغیر طویل روزہ رکھنے سے الیکٹرولائٹ کے عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے، بشمول ہائپوناٹریمیا (کم سوڈیم لیول) یا ہائپوکلیمیا (کم پوٹاشیم لیول)۔

 ہائپوولیمیا

طویل پانی کے روزے سے منسلک ایک اور تشویش ہائپوولیمیا ہے۔ اس سے مراد جسم میں گردش کرنے والے خون کی مقدار میں کمی ہے۔ خون کا کم حجم جسم کی بافتوں اور اعضاء کو آکسیجن اور غذائی اجزاء پہنچانے کی صلاحیت کو خراب کر سکتا ہے، جس سے کام کاج میں خلل پڑتا ہے۔ اس سے آپ کو چکر آ سکتے ہیں اور آپ کو تیز دل کی دھڑکن، کم بلڈ پریشر، تھکاوٹ اور الجھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگرچہ پانی کا روزہ وزن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس وزن کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے لیے کچھ اور کام بھی ضروری ہیں۔

 غذائیت سے بھرپور غذا کھائیں

پھل، سبزیاں، لین پروٹین، مکمل اناج اور صحت مند چکنائی جیسے مکمل اور غیر پروسس شدہ متوازن غذا کھائیں۔

 باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں

کیلوریز کم کرنے اور میٹابولزم کو بڑھانے کے لیے چہل قدمی، جاگنگ اور تیراکی جیسی مشقیں کریں۔

 وزن میں کمی کے لیے عادات کو تبدیل کریں

صحت مند طرز زندگی میں تبدیلیاں لائیں، جیسے اسٹریس سے دور رہیں، بھرپور نیند لیں، ڈپریشن کے نتیجے میں زیادہ غذا لینے سے گریز کریں، یہ تبدیلیاں آپ کو وزن کم کرنے اور اسے طویل مدت تک برقرار رکھنے مددفراہم کرے گی۔

روزہ رکھنے کے مختلف طریقے کچھ لوگوں کے لیے دوسروں کی نسبت بہتر کام کر سکتے ہیں، لیکن آپ کو ہمیشہ وزن میں کمی کا مقصد سامنے رکھنا چاہیے۔