کینسر کا علاج ممکن ہے لیکن اس صورت میں کہ اگر اس کی تشخص جلد ہو جائے، جبکہ اس بیماری کا علاج کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
حال ہی میں طبی ماہرین نے کینسر کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کی نشاندہی کی ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ کن افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
عمر
ویسے تو کینسر کا سامنا کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
درحقیقت عمر کو کینسر کی متعدد اقسام سے منسلک کیا جاتا ہے اور کینسر کے لگ بھگ 50 فیصد مریضوں کی اوسط عمر 66 سال ہوتی ہے۔
غذائی عادات
ابھی تک یہ تو ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ کونسی غذائیں کینسر کا شکار یا اس سے تحفظ فراہم کرتی ہیں لیکن یہ معلوم ہو گیا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال ممکنہ طور پر کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
الکحل
الکحل کا جتنا زیادہ استعمال کیا جائے گا، کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس کے استعمال سے منہ، حلق، غذائی نالی، جگر اور بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے
موٹاپا
جسمانی وزن میں اضافے سے کینسر کی متعدد اقسام کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان اقسام میں بریسٹ، آنتوں، غذائی نالی، گردے، لبلبے اور دیگر قابل ذکر ہیں۔
سورج کی روشنی
سورج کی روشنی میں بہت زیادہ پھرنا بھی کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے، خاص طورپر جِلد کے کینسر کا۔
تمباکو نوشی
تمباکو میں موجود لگ بھگ 70 فیصد کیمیکلز کینسر کا باعث بن سکتے ہیں اور تمباکو نوشی سے صرف پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ ہی نہیں بڑھتا، بلکہ اس عادت کو کینسر کی 12 دیگر اقسام بشمول مثانے، معدے، منہ، گلے اور گردوں کے کینسر سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
ہارمونز
ہارمونز کینسر کا خطرہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسٹروجن ایک ایسا ہارمون ہے جس کی مقدار خواتین میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کا توازن بگڑنے سے بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
کمزور مدافعتی نظام
مدافعتی نظام مختلف امراض کے باعث کمزور ہو جاتا ہے اور کمزور مدافعتی نظام کے باعث جسم کے لیے کینسر سے لڑنا مشکل ہوتا ہے۔
مخصوص امراض
وائرسز، بیکٹریا اور پیرا سائیٹس کے باعث ہونے والی بیماریوں جیسے ہیپٹا ٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی، ایچ پی وی، Epstein-Barr virus اور Helicobacter pylori وغیرہ سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















